امتحان کا پرچہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۰
امتحان کا پرچہ
آج کل یہ منظر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک شخص پیسہ کما کر اپنے لیے ایک شاندار مکان بنائے گا ، اور اس کے بعد اس کے اوپر لکھ دے گا : ھذا من فضل ربی (یہ میرے رب کا فضل ہے) بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ میرے خدا کا انعام ہے۔ خدا نے مکان کی صورت میں مجھے اپنی نعمت عطا فرمائی ہے۔ مگر موجودہ شکل میں اس کا یہ مطلب درست نہیں ۔ قرآن کی یہ آیت سورہ النمل میں آئی ہے ۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں جب ملکہ سبا حاضر ہوئی تو آپ نے اپنے مسخر بتانوں کے ذریعہ اس کا تخت یمن (مارب) سے فلسطین (یروشلم) منگایا ۔ قرآن کے بیان کے مطابق، یہ واقعہ پلک جھپکنے کے درمیان ہوا۔ ڈیڑھ ہزار میل دور رکھا ہوا تخت ایک سیکنڈ میں حضرت سلیمان کے پاس پہونچ گیا ۔ حضرت سلیمان ؑ نے جب یہ غیر معمولی واقعہ دیکھا تو ان کی زبان سے نکلا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے ، تاکہ وہ مجھے جانچے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری (ھذا من فضل ربی، ليبلوني ءاشكر أم أكفر )
حضرت سلیمان علیہ السلام کے پورے قول کو سامنے رکھئے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اس ”فضل“ کو انھوں نے اصلا آزمایش کے نقطۂ نظر سے دیکھا۔ ان کے نزدیک خدا کا خصوصی معاملہ اس لیے کیا گیا کہ اس کے ذریعہ ان کو آزمایش میں ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ وہ اس پر شکر کے جذبہ سے جھک جاتے ہیں ، یا فخر کے جذبہ کے تحت اس کے برعکس رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا انعام، اپنے حقیقی معنوں میں، اہل ایمان کو آخرت میں ملنے والا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو جو کچھ دیا جاتا ہے ، وہ دراصل امتحان کا پرچہ ہوتا ہے۔ اس کا مقصد جانچنا ہوتا ہے نہ کہ نوازش کرنا ۔ اس اعتبار سے اس دنیا کے آرام کی حقیقت بھی وہی ہے جو اس دنیا کی تکلیف کی حقیقت ہے۔ دونوں ہی آدمی کے لیے آزمائش کے پرچے ہیں۔ آرام میں شکر مطلوب ہے اور تکلیف میں صبر ۔ دنیا میں خدا کا اصلی انعام یہ ہے کہ وہ آدمی کو یہ توفیق دے کہ وہ آرام میں شکر کا ثبوت دے سکے اور تکلیف میں صبر کا ثبوت ۔