آسان حل
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۱
آسان حل
الطاف حسین حالی پانی پتی (۱۹۱۴ - ۱۸۳۷) ایک انقلابی ذہن کے آدمی تھے۔ انھوں نے اردو ادب میں اصلاح کی تحریک چلائی۔ انھوں نے قدیم اردو شاعری پر سخت تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ اردو شاعری مبالغہ اور عشق و عاشقی اور فرضی خیال آرائی کا مجموعہ ہے۔ اس کے بجائے اس کو بامقصد شاعری ہونا چاہیے ۔ اس کا ایک نمونہ انھوں نے خود "مسدس" کی صورت میں پیش کیا۔ حالی کی یہ تنقید ان لوگوں کو بہت بری لگی جو اردو شاعری پر ناز کرتے تھے اور اس کو اپنے لیے فخر بنائے ہوئے تھے۔ چنانچہ حالی کے خلاف نہایت نازیبا قسم کے مضامین شائع ہونا شروع ہوئے۔ لکھنو کا اخبار "اودھ پنچ" اکثر نہایت برے انداز میں ان کے خلاف لکھتا اور اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کرتا :
ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے میدان پانی پت کی طرح پائمال ہے حالی نے ان بے ہودہ مخالفتوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنا کام کرتے رہے۔ آخر کار چند سال کے بعد وہ لوگ تھک کر چپ ہو گئے۔ کسی نے حالی سے سوال کیا کہ آپ کے مخالفین کیسے خاموش ہو گئے۔ اس کے جواب میں حالی نے کسی کا نام لیے بغیر یہ شعر کہا: کیا پوچھتے ہو کیوں کر سب نکتہ چیں ہوئے چپ سب کچھ کہہ کہ انھوں نے پر ہم نے دم نہ مارا جھوٹی مخالفتوں کا سب سے زیادہ آسان اور کار گر جواب یہ ہے کہ اس کا کوئی جواب نہ دیا جائے۔ جھوٹی مخالفت ہمیشہ بے بنیاد ہوتی ہے۔ اس کے لیے مقدر ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ ڈھٹ پڑے۔ ایسی مخالفت کا جواب دینا گویا اس کی مدت عمر میں اضافہ کرنا ہے۔ اگر آدمی صبر کرلے تو بے جڑ درخت کی طرح ایک روز وہ اپنے آپ گر پڑے گی۔ وہ کبھی دیر تک خدا کی زمین پر قائم نہیں رہ سکتی۔
جھوٹ کا سب سے بڑا قاتل وقت ہے۔ آپ آنے والے وقت کا انتظار کیجیے۔ اور اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ وقت نے اس فتنہ کو زیادہ کامل طور پر ہلاک کر دیا ہے جس کو آپ صرف ناقص طور پر ہلاک کرنے کی تدبیر کر رہے تھے۔