Al-Risala · May 1990 · page 18

امت کا بگاڑ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۸

امت کا بگاڑ

حضرت علیؓ حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک روایت مختلف الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔ اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخر زمانہ میں جب امت مسلمہ کے اندر بگاڑ آئے گا تو اس کے افراد میں دس قسم کی خصلتیں پیدا ہو جائیں گی۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کی بات مانے گا اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا۔ وہ اپنے دوست سے قریب ہوگا اور باپ سے دور ہو جائے گا (اطاع الرجل امرأته وعق امه وادنى صديقه واقصى اباه، الترمدى) بیوی کسی آدمی کے لیے دل چسپیوں کا مرکز ہوتی ہے جب کہ ماں کا وجود ذمہ داریوں کی علامت ہے۔ اسی طرح باپ کے ساتھ فرماں برداری کا تصور وابستہ ہوتا ہے اور دوست کے ساتھ تفریح کا۔ آدمی کا ماں باپ کو چھوڑ دینا اور اپنی بیوی اور اپنے دوستوں سے قریب ہونا دراصل بڑھی ہوئی دنیا پرستی کا نتیجہ ہے۔ اپنے بیوی بچوں سے دل چسپی یا اپنے دوستوں سے رغبت بجائے خود فطری چیزیں ہیں۔ مگر جب آدمی کا مزاج آخرت پسندانہ ہو تو ان چیزوں کو وہ ضرورت کے دائرہ میں محدود رکھتا ہے اور وہ اپنے جی کے میلان پر پابندی قائم رکھتے ہوئے والدین کے بارہ میں اپنی شرعی ذمہ داریوں کو ادا کرتا رہتا ہے۔ مگر جب آخرت کے عقیدہ پر دنیا پرستی کا رجحان غالب آ جاتا ہے تو صورت حال بدل جاتی ہے۔ اب آدمی ہمہ تن اپنے دوستوں اور اپنے بیوی بچوں کی طرف جھک جاتا ہے اور ماں باپ سے عملاً بے تعلق ہو جاتا ہے، اور اگر تعلق رکھتا بھی ہے تو محض زبان اور الفاظ کا۔ اس کا بہترین مشغلہ یہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے درمیان خوش وقتی کے لمحات گزارے اس کے لطف ولذت کے اوقات وہ ہوتے ہیں جب کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان ہو اور ان سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر رہا ہو ۔ اس کا وقت ، اس کا پیسہ ، اس کے جذبات ، اس کا پورا وجود اپنے بیوی بچوں کے لیے وقف ہو جاتے ہیں۔ ماں باپ کے لیے اس کے پاس رسمی باتوں کے سوا کچھ اور نہیں رہتا۔ قوم پر ایسا وقت آنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے افراد پابندی کے بجائے بے فکری کو پسند کرنے لگے ہیں۔ ان کو ذمہ دارانہ زندگی کے مقابلہ میں بے قید زندگی زیادہ محبوب ہو گئی ہے افراد کا یہی مزاج قوم کے زوال کا سب سے بڑا سبب ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page