قیادت کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۷
قیادت کا مسئلہ
وائیلیٹ گراف (Violette Graff) ایک فرانسیسی خاتون ہیں جو ہندوستان کی مذہبی اقلیتوں کی ماہر (specialist) سمجھی جاتی ہیں۔ مسٹر نوجراونی (Naravne) نے پریس میں ان کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹائمس آف انڈیا ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ میں شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے : Religious pluralism is India's wealth گفتگو کے دوران ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات ور مسلم اقلیت کے مسائل کا ذکر آیا۔ انٹرویو ر نے پوچھا کہ کیا آپ اس سے اتفاق کریں گی کہ ہندوستان کی مسلم اقلیت اس لیے نقصان اٹھارہی ہے کہ وہ اپنے اندر ایک جاندار قیادت (viable leadership) پیدا نہ کرسکی۔
خاتون نے جواب دیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان ایک جاندار اور فعال قیادت کا ابھرنا موجودہ حالات میں سخت مشکل ہے۔ کیوں کہ ایک اعتبار سے وہ خطرناک ہے ، اور دوسرے اعتبار سے ناقابل عمل۔ جناح کے انداز کا کوئی واحد لیڈر اگر مسلمانوں میں ابھرے تو حکومت فوراً اس کو علحدگی پسند (separatist) قرار دیدے گی۔ اس کو ” نیا جناح “ کہا جانے لگے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ حکومت سے قریب ہو اور مفاہمتی انداز کی بات کرے تو وہ مسلمانوں کی نظر میں شو من (showman) قرار پائے گا۔ وہ اس کو حکومت (یا ہندو) کا ایجنٹ کہہ کر رد کردیں گے ۔ یہ ایک نہایت پیچیدہ صورت حال ہے جس سے ہندوستان کے موجودہ مسلمان دوچار ہیں۔ اور بلاشبہ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر ابھی تک مسلمانوں کے درمیان کوئی طاقت ور قیادت پیدا نہ ہوسکی ۔ کیوں کہ ” جناح “ کے انداز کی قیادت حکومت کی نظر میں غیر معتبر بن جاتی ہے اور ” سر سید “ کے انداز کی قیادت مسلمانوں کی نگاہ میں غیر معتبر قرار پاتی ہے ۔ جو چیز ممکن ہے وہ مفید نہیں ، جو چیز مفید ہے وہ ممکن نہیں۔
مسلمان حکومت کی (یا اکثریتی طبقہ کی) سوچ کو بدل نہیں سکتے۔ انھیں چاہیے کہ وہ خود اپنی سوچ کو بدل لیں تاکہ ان کے اندر طاقت اور قیادت ابھرے اور تعمیر ملت کا وہ کام انجام پاسکے جو نصف صدی سے رکا ہوا پڑا ہے ۔ اس کے سوا اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں ۔