Al-Risala · May 1990 · page 20

اسلوب دعوت کا مسئلہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۲۰

اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر تنقیدی نوعیت کا روحانی اور اخلاقی انداز ذاتی مقبولیت یا عوامی بھیڑ جمع کرنے کے لیے تو بہت کارآمد ہے ، مگر وہ اصل مقصد کے لیے کار آمد نہیں ۔ غیر تنقیدی انداز لوگوں کو سننے میں بہت اچھا لگتا ہے ، مگر وہ ذہنوں میں ہلچل پیدا نہیں کرتا ۔ اس سے وہ فکری انقلاب نہیں آتا ، جب کہ آدمی کی سوچنے کی صلاحیت جاگتی ہے ۔ اس پر ایک چیز کا غلط ہونا منکشّف ہوتا ہے اور دوسری چیز کے صحیح ہونے کو وہ شعوری طور پر دریافت کرتا ہے ۔ اسلام کو وہ افراد مطلوب ہیں جو انقلابی (کرانتی کاری) ذہن رکھتے ہوں ، اور تنقیدی اندازِ دعوت کے بغیر ایسے افراد کا بننا ہرگز ممکن نہیں ۔

غیر تنقیدی اسلوب غیر فطری اسلوب ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحیح بھی صحیح ہے اور غلط بھی صحیح ۔ یہی وجہ ہے کہ جو تحریک غیر تنقیدی انداز میں چلائی جائے ، اس سے مصنوعی شخصیت پیدا ہوتی ہے ، اس کے ذریعہ کبھی مطلوب اسلامی شخصیت پیدا نہیں کی جا سکتی ۔ رات کے وقت تالاب میں شبنم گرتی ہے ۔ مگر اس سے تالاب کے پانی میں کوئی تموج پیدا نہیں ہوتا ۔ لیکن اسی تالاب میں ایک بڑا پتھر پھینک دیجیے تو اس سے ٹھہرے ہوئے پانی میں زبردست تموج پیدا ہو جائے گا ۔ اس مثال سے تنقیدی اور غیر تنقیدی اسلوب کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے ۔ غیر تنقیدی اسلوب شبنم کی مانند ہے ۔ اس سے آدمی کو ایک روحانی سکون تو ملتا ہے مگر اس سے اس کے سینہ میں اضطراب پیدا نہیں ہوتا ۔

مگر یہ مطلوب اسلامی شخصیت نہیں ۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے (الایمان بین الرجاء والخوف) مومن کو ایک طرف امید ہوتی ہے کہ خدا رحیم و کریم ہے ، وہ اس کو بخش دے گا ۔ دوسری طرف اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ خدا عادل ہے ، وہ اس سے حساب لے گا ، اور جس کا حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوا (من نوقش فقد ھلک) اس بنا پر مومن ہمیشہ "فقط فقط" کے درمیان ہوتا ہے ۔ یہ چیز اس کو ایک پر اضطراب شخصیت بنا دیتی ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام اصحاب رسول ہمیشہ اضطراب کی نفسیات میں رہتے تھے ۔ ان میں سے کوئی شخص بھی پر سکون شخصیت کا حامل نہ تھا ۔ ایمان موجودہ دنیا میں درد ہے اور آخرت میں راحت ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page