Al-Risala · May 1990 · page 21

پیغمبر کا فیصلہ

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۲۱

پیغمبر کا فیصلہ

بخاری اور مسلم نے حضرت حذیفہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے۔ آپ نے خطبہ دیا اور ہر وہ بات بیان کی جو آپ کے زمانہ سے لے کر قیامت تک ہونے والی تھی (مشکاۃ المصابیح ، الجزء الثالث ، صفحہ ۱۴۸۰) حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں موجود ہیں جن میں مستقبل کی باتیں نقل کی گئی ہیں۔ انہیں میں سے ایک بات وہ ہے جو ابو داؤد نے ان الفاظ میں روایت کیا ہے :

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ يُوشِكَ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا نے فرمایا کہ وہ زمانہ آنے والا ہے جب کہ قومیں تَدَاعَى الْأَكْلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا - فقال قائل: تمہارے اوپر ٹوٹ پڑیں جس طرح کھانے والے مِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ - قال بل أنتم يومئذ کھانے کے پیالے پر ٹوٹتے ہیں۔ ایک شخص نے كثير - ولكنكم غثاء كغثاء السيل و کہا، کیا اس لیے کہ اس وقت ہم لوگ کم تعداد لينزعن الله من صدور عدوكم المهابة میں ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ اس منكم وليقذفن في قلوبكم الوهن - قال وقت تم لوگ بہت زیادہ ہوگے ۔ مگر تم قائل وما الوهن يا رسول الله - قال لوگ سیلاب کے جھاگ کی مانند ہوگے ، اللہ حب الدنيا وكراهية الموت - تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہاری ہیبت (جامع الاصول ، ۱۰ / ۷۸) نکال دے گا۔ اور تمہارے دلوں میں کمزوری پیدا کر دے گا۔ کہا گیا کہ اے خدا کے رسول ، کمزوری کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دنیا کی محبت ، اور موت کو ناپسند کرنا ۔

اس حدیث کے الفاظ پر غور کیجئے اور امت مسلمہ کے موجودہ حالات کو دیکھئے۔ معلوم ہوگا کہ آج امت پر عین وہی زمانہ آگیا ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۴ سو سال پہلے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page