پیغمبر کا فیصلہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۲۲
پیشین گوئی فرمائی تھی ۔ موجودہ مسلمان ، خواہ وہ اقلیتی ملک میں ہوں یا اکثریتی ملک میں، ہر جگہ وہ دوسری قوموں کے استحصال اور زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ ساری دنیا میں ایک ارب کی غیر معمولی تعداد میں ہونے کے باوجود وہ حقیر اور مظلوم بنے ہوئے ہیں ۔ اب دیکھیے کہ رسول اللہ صلّی اللہ عل وسلّم نے اس آنے والے دور کے بارہ میں جو ارشاد فرمایا ہے وہ کیا ہے ۔ اس حدیث میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اس زمانہ میں دنیا کی قومیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں گی اور ان کو اپنے ظلم اور استحصال کا نشانہ بنائیں گی ۔ مگر اس خارجی مسئلہ کا سبب تمام تر داخلی مسئلہ بتایا گیا ہے ۔ اس میں کھلے لفظوں میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ ناموافق صورت حال اس لیے پیش آئے گی کہ مسلمان دنیا کی طلب میں پھنس جائیں گے اور اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر اعلیٰ دینی مقصد کے لیے قربانی کرنے کا جذبہ ان کے اندر باقی نہیں رہے گا۔ گویا یہ مسئلہ باہر سے پیدا ہوگا مگر اس کا سبب خود مسلمانوں کے اپنے اندر ہوگا۔ اس کے مقابلہ میں موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ان الفاظ کو دیکھیے جو ان کے تمام اصاغر و اکابر لکھنے اور بولنے میں مصروف ہیں۔ یہ سب کے سب بلا استثناء ایک ہی بولی بول رہے ہیں ۔ اور وہ ہے ـــــــــ اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دے کر ان کے خلاف لا متناہی چیخ پکار جاری رکھنا ۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان عربی ، اردو ، فارسی اور انگریزی میں اس معاملہ میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سب کا سب الفاظ کے فرق کے ساتھ ایک ہی ہے، اور وہ دوسری قوموں کی مذمت ہے ۔ ان میں سے کوئی موامرہ کا لفظ بولتا ہے اور کوئی سازش کا اور کوئی'(conspiracy)' کا۔ مگر سب کے کلام کا خلاصہ صرف ایک ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ دوسری قومیں ہمارے خلاف سازشیں کر رہی ہیں ۔ دوسری قومیں ہمارے اوپر ظلم کر رہی ہیں ۔ دوسروں نے ہمیں تباہی اور مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے ۔
مسلمان اگر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نصیحت پر دھیان دیتے تو وہ اپنی ساری کوشش اپنی اندرونی کمیوں کو دور کرنے پر لگا دیتے۔ مگر وہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نصیحت کو مکمل طور پر نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔ ان کا ہر چھوٹا اور بڑا ، اور ان کا ہر لکھنے اور بولنے والا