بابری مسجد کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۳۴
فرضی کہانی ہے جو زیادہ تر والمیکی کی افسانوی نظم (را مائن پر مبنی ہے۔ اس کا معلوم تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ۔
ان تاریخی پروفیسروں کے پیش کئے ہوئے حقائق اتنے قطعی تھے کہ خود ہندوؤں میں بھی کوئی اس کو علمی طور پر رد نہ کر سکا۔ مثلاً مسٹر کے آر ملکانی (ٹائمس آف انڈیا۵ جنوری ۱۹۹۰ ) نے بالواسطہ طور پر اقرار کر لیا کہ رام جنم بھومی کا قصہ ابتدائی دور کا افسانہ (primitive myth) کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم یہ مذہبی معاملہ ہے ، اس لئے اس کو پیشہ ور تاریخ دانوں کے ذریعہ طے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے جواب میں ایک نہایت ممتاز دانشور ملک راج آنند (بمبئی ) نے نہایت سخت تر دیدی خط لکھا جو ٹائمس آف انڈیا (۵ فروری ۱۹۹۰ ) میں چھپا ہے۔
دوسرا حوالہ جو میں اس سلسلہ میں دینا چاہتا ہوں ، وہ ایک واقعہ ہے جو مختلف اخباروں ، مثلاً اسٹیٹسمین ۶ جنوری ۱۹۹۰ ) میں چھپا ہے۔ بعض اردو اخباروں میں بھی اس کی رو داد آئی ہے، مثلاً نئی دنیا (۲۲ جنوری ۱۹۹۰ ) اسٹیٹسمین کی رپورٹ کی نقل الگ صفحہ پر شائع کی جارہی ہے۔ ہندوستانی مورخوں کی ایک قدیم اور نہایت اہم تنظیم ہے جس کا نام انڈین ہسٹری کانگریس ہے۔ اس کے اجلاس ہر سال ملک کے مختلف حصوں میں ہوتے ہیں ۔ ۱۹۸۹ اس تاریخی انجمن کی گولڈن جوبلی کا سال تھا۔ اس کے تحت ۳۰ دسمبر ۱۹۸۹ - یکم جنوری ۱۹۹۰ کو اس کا اجلاس گورکھپور میں ہوا۔ میزبانی کے فرائض گورکھپور یونیورسٹی نے انجام دئے۔ اس کانگریس میں ملک کے مختلف حصوں سے ۳۰۰ سے زیادہ ڈیلی گیٹ شریک ہوئے ۔ یہ لوگ ملک بھر کی سو سے زیادہ یونیورسٹیوں کے شعبۂ تا ریخ سے تعلق رکھتے تھے۔
۱۹۸۶ میں جب بابری مسجد - رام جنم اجودھیا) کے مسئلے نے شدت اختیار کی تو اس وقت انڈین ہسٹری کانگریس نے اپنے اجلاس (۱۹۸۶) میں متفقہ طور پر ایک رزولیوشن منظور کیا تھا۔ یہ رزولیوشن انڈین ہسٹری کانگریس کی رپورٹ ۱۹۸۶ (صفحہ ۱۸۷) میں چھپا ہوا موجود ہے۔ اس رزولیوشن میں اجلاس میں شریک ہونے والے تمام تاریخ دانوں نے متفقہ طور پر کہا تھا کہ:
" انڈین ہسٹری کانگریس ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اور انتشار پسندی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ اس رجحان کی ایک تشویشناک مثال کسی فرقہ کی صدیوں پرانی عبادت گاہوں کو اس