Al-Risala · January 1990 · page 22

نئے دور کا آغاز

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۲۲

یکسر لامعلوم تھا۔ اسی بنا پر وہ عام مسلمانوں کے لیے بھی لامعلوم بنا ہوا تھا۔ کیونکہ یہ انہیں بتایا ہی نہیں گیا تھا۔

الرساله نے پچھلے تقریباً پندرہ سال کے اندر اس نئے تصور کو اتنی طاقت کے ساتھ پھیلایا کہ آج وہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ کا پسندیدہ فکر بن گیا۔ اس کا عملی ظہور اس طرح شروع ہو چکا ہے کہ ۱۹۸۹ء میں انتہائی گرم ماحول کے باوجود مقابلہ بہت ہی کم فسادات ہوئے۔ رپورٹر میں بتا رہی ہیں کہ جگہ جگہ مسلمان صبر اور اعراض کی پالیسی کو اختیار کر کے فساد کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے کچھ سطحی لیڈر اگر چہ اب بھی ردِ عمل کی آگ بھڑکانے میں مشغول ہیں، مگر اللہ تعالیٰ الرساله کے ذریعہ اس آگ کو مسلسل بجھا رہا ہے (المائدہ ۶۴) الرساله مشن کی پیدا کردہ اسی صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہمارے اخباروں کو پر فخر طور پر وہ الفاظ لکھنے کو مل رہے ہیں جس کی ایک مثال اوپر نقل کی گئی۔ یہ اخبارات اگر دیانت دار ہوں تو ان کے لیے زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ اپنے مضامین میں اس طرح کے الفاظ لکھیں کہ ۔ ہم نے تو مسلمانوں کو ردِ عمل کی آگ میں جھونکنے کی پوری کوشش کی تھی ، مگر یہ الرساله کا کارنامہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کو جوابی اشتعال سے بچا لیا اور وہ فساد کی بھیانک آگ میں جلنے سے محفوظ رہے۔

بابری مسجد تحریک ہندوستان میں جذباتی اندازِ کار کا خاتمہ اور حقیقت پسندانہ اندازِ کار کا آغاز ہے ۔ اس تحریک نے ایک طرف نام نہاد مسلم قیادت کو ہمیشہ کے لیے پیچھے دھکیل دیا۔ اور دوسری طرف اس قیادت کے کھنڈر سے الرساله مشن کو نئی طاقت کے ساتھ اٹھا کر کھڑا کر دیا۔ فلہ الحمد۔ ایجنسی ایک پروگرام اگر آپ الرسالہ کو پسند کرتے ہیں تو الرساله کی ایجنسی لیجئے۔ الرساله کی ایجنسی لینا اپنی پسند کو ایک متحرک مشن بنا دینا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page