ایک نمونہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۲۳
ایک نمونہ
مسٹر ششی پرش ڈگویل (۲۲ سال، میرٹھ کے رہنے والے ہیں ۔ ۱۹۸۹ کے سول سروسز امتحانات میں انھوں نے ٹاپ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی اے ایس میں شرکت سے ان کا مقصد روپیہ کمانا نہیں ہے، بلکہ اس جاب کی باعزت حیثیت (Dignified status) ان کے لیے کشش کا باعث ہوئی ۔ مسٹر ڈگویل کا ایک انٹرویو ٹائمز آف انڈیا (۸ جون ۱۹۸۹) میں چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ سول سروس میں داخل ہونے کا ذہن ان کے اندر اس وقت بنا جب کہ انھوں نے مسٹر جاوید عثمانی کا انٹرویو پڑھا۔ مسٹر عثمانی نے محض اپنی ذاتی محنت سے ۱۹۸۱ کے سول سروس امتحان میں ٹاپ کیا تھا۔ وہ ان کے نمونہ سے اتنا زیادہ متاثر ہوئے کہ اس وقت سے ان کا یہ ذہن بن گیا کہ ایک شخص سول سروس کے ذریعہ قوم کی زیادہ بہتر خدمت کر سکتا ہے : His mind was made up after he read the interview of Mr. Javed Usmani, the topper in the civil services examinations in 1981. "I was so inspired by his example that since that day I have thought that one can serve the nation best only through the civil services" (p. 3). مسٹر جاوید عثمانی کے پاس کہنے کے لیے اگر یہ ہوتا کہ اس ملک میں تعصب ہے، یہاں ان کے لیے ترقی کے مواقع نہیں ہیں، تو مسٹر ڈگویل کو ان کے کلام سے کوئی تحریک نہ ملتی۔ مگر جب انھوں نے تعصب کو نظر انداز کر کے محنت کو ترقی کا زینہ بتایا تو مسٹر ڈگویل کو اس میں خود اپنی ترقی کا نسخہ مل گیا۔ اس کو اختیار کر کے وہ ایک باعزت عہدہ تک پہنچ گئے ۔
آج مسلمان اس ملک میں احتجاجی گروه (Protestant group) بنے ہوتے ہیں۔ اگر وہ مسٹر جاوید عثمانی کی طرح اپنی افادیت ثابت کریں تو وہ اس ملک میں تخلیقی گروه (Creative group) بن جائیں گے۔ احتجاجی لوگ نہ اپنے آپ کو کچھ دیتے ہیں اور نہ دوسروں کو۔ مگر جو لوگ تخلیقی گروہ کی حیثیت حاصل کر لیں وہ خود بھی پاتے ہیں اور دوسروں کو بھی دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے اس ملک میں تخلیقی گروه بننے کے امکانات پوری طرح موجود تھے۔ مگر ان کے لیڈروں کی جھوٹی سیاست نے انھیں اس کے سوا کسی قابل نہ رکھا کہ وہ اس ملک میں بے اثر احتجاجی گروہ بن کر رہ جائیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues