بابری مسجد کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۳۸
نماز
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی اور کفر کے درمیان ترک صلاۃ ہے۔ (بین الرجل والكفر ترك الصلاة) حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ نماز دین کا کھمبا ہے۔ (الصلاة عماد الدين) نماز ”اللہ اکبر“ کے قول سے شروع ہوتی ہے اور ”السّلام علیکم ورحمة اللہ“ کے قول پر ختم ہوتی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : تحريمها التكبير وتحليلها التسليم - نماز کی ابتدائی تیاری وضو سے شروع ہوتی ہے۔ وضو کے بارہ میں حدیث میں آیا ہے کہ اس شخص کی نماز نہیں جس کا وضو نہ ہو اور اس کا وضو نہیں جس نے اس پر اللہ کے نام کو یاد نہ کیا (لا صلاة لمن لا وضوء له ولا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه) وضو حقیقتاً ایک قسم کی عملی دعا ہے۔ آدمی اپنے جسم کے کچھ نمائندہ حصوں کو دھو کر اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتا ہے کہ اسی طرح تو اپنی رحمت کے پانی سے میرے پورے وجود کو پاک کر دے ، تو میرا تزکیہ کر کے مجھے جنت میں داخل کر دے۔ مؤذن جب اذان کے کلمات کہتا ہے تو اس کے بارہ میں حکم ہے کہ تمام نمازی اس کو سن کر اسی طرح اپنی زبان سے دہرائیں۔ یہ دہرانا در حقیقت مؤذن کی پکار پر لبیک کہنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اس دینی عمل کے لیے پوری طرح تیار ہے جس کی طرف اس کو بلایا گیا ہے۔ اس کے بعد آدمی اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے) کہہ کر نماز میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ اس حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے کہ اس دنیا میں بڑائی صرف ایک خدا کے لیے ہے۔ پھر آدمی ادب سے کھڑا ہوتا ہے، وہ جھکتا ہے اور زمین پر اپنا سر رکھ دیتا ہے۔ یہ اس بات کا عملی اقرار ہے کہ خدا بڑا ہے ، میں چھوٹا ہوں۔ میں آخری حد تک اس کی اطاعت کرنے کے لیے تیار ہوں۔
آخر میں نمازی اپنے دائیں اور بائیں چہرہ پھیر کر کہتا ہے کہ السّلامُ عَلَيْكُمُ وَرَحْمَةُ اللهِ اس طرح گویا وہ زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبہ کا اظہار کرتا ہے۔ خدا کو گواہ بنا کر وہ عہد کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے گا کہ اس کی وجہ سے کسی کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو ، ہر ایک کی جان اور مال اور آبرو ، ہر چیز اس سے محفوظ اور مامون رہے۔