بابری مسجد کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۳۷
لوگ اپنے پروپیگنڈے کے لئے ہسٹری کانگریس کا پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں۔ گورکھپور یونیورسٹی کے طالب علموں کی بڑی تعداد نے بھی کھل کر اس کی حمایت کی۔
اس معاملے نے اتنی شدت اختیار کی کہ بعد کو خود وائس چانسلر پر تیما استھانا نے کھل کر اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ اور اگلے اجلاس میں مندو بین سے مانگی۔
مہنت اوپید ناتھ جب خالی کرسیوں کو خطاب کر کے واپس چلے گئے تو مندو بین دوبارہ اسمبلی ہال میں واپس آئے اور ایک بار پھر انھوں نے اتفاق رائے سے وہ رزولیوشن منظور کیا جو دسمبر ۱۹۸۶ میں متفقہ طور پر منظور کیا جا چکا تھا۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کانگریس کے آٹھ مندو بین جو واک آؤٹ میں شریک نہیں ہوئے تھے ، وہ بھی اس رزولیوشن کی مخالفت کی جرات نہ کر سکے۔ جب رزولیوشن پر رائے شماری کی گئی تو اجلاس کے ایک شخص نے بھی اس کی مخالفت میں اپنا ووٹ نہیں دیا۔ اوپر کے حوالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہند ؤوں کا دانشور اور مورخ طبقہ عام طور پر عنیر فرقہ وارانہ انداز میں سوچتا ہے۔ وہ معاملات پر سائنٹفک انداز سے رائے قائم کرتا ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو نہایت آسانی کے ساتھ یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ کی تجویز کو مسلم لیڈروں نے منظور کر کے اس پر عملدر آمد کیا ہوتا تو اس کا نتیجہ کس صورت میں نکلتا۔ یہ یقینی طور پر کھیر" کو اپنے موافق برتن میں رکھنے کے ہم معنی ہوتا۔ کیوں کہ تاریخ دانوں کا بورڈ اپنے علمی ذہن کی بنا پر تاریخی حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرتا۔ اور جب تاریخی حقائق کی بنیاد فیصلہ کیا جاتا تو وہ عین مسلمانوں کی موافقت میں ہوتا۔ یہاں مسلمانوں کے نادان لیڈروں نے ناقابل معافی معافی ملی جرم کیا ہے۔ ان لوگوں کے لئے یہ موقع تھا کہ اجودھیا مسئلہ کی "کھیر کو اپنے موافق برتن میں رکھوائیں۔ مگر انھوں نے ناقابل فہم نادانی کے تحت اس کو اپنے غیر موافق برتن میں رکھ دیا۔ مورخین سے فیصلہ لینے کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ مسئلہ کو عوامی مظاہروں کا عنوان بنایا۔ وہ سڑکوں پر اس کا فیصلہ کرنے کی طرف دوڑ پڑے۔ یہ کھیر کو اس برتن میں رکھنے کے ہم معنی تھا جو فریق ثانی کے لئے زیادہ موافق ہو۔ اس کے بعد جو نتیجہ نکلا وہ عین وہی تھا جو قانون قدرت کے تحت پیشگی طور پر اس کے لئے مقدر تھا۔ ایک فریق ساری کھیر کھا گیا ، اور دوسرا فریق بے بسی کے ساتھ اس کو دیکھتا رہا ، اور کچھ نہ کر سکا۔