Al-Risala · May 1990 · page 40

شما حذر بکنید

الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۴۰

شما حذر بکنید

ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (۳۰ جمادی الاولی ۱۴۱۰ھ ، ۲۸ دسمبر ۱۹۸۹) میں قصّة تحمل عبرۃ کے زیر عنوان ایک واقعہ شائع ہوا ہے ۔ اس میں بہت بڑی نصیحت ہے۔ اس کے لکھنے والے طائف کے ایک عرب استاذ ابراہیم ع ن ہیں ۔ اس میں انھوں نے اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ مجھ کو مطالعہ کا بہت زیادہ شوق تھا ۔ ہر روز میں پانچ گھنٹہ سے زیادہ مطالعہ کرتا تھا ۔ کوئی جریدہ یا مجلہ یا نئی کتاب میں پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔ میں ان کو حرف بہ حرف پڑھتا تھا ۔ یہاں تک کہ مطالعہ میری روزانہ زندگی کا ایک لازمی جزو بن گیا ۔ مگر آج میں بالکل اندھا ہوں ۔ اب میں کوئی بھی چیز اپنی آنکھ سے نہیں پڑھ سکتا۔

ایسا کیوں کہ ہوا ۔ اس کی وجہ ان کے الفاظ میں یہ تھی کہ وہ بعض امور میں مفرط (حد سے تجاوز کرنے والے) بن گئے ۔ چنانچہ وہ گاڑی بہت تیز دوڑاتے تھے ۔ اور اسی کے نتیجہ میں یہ حادثہ پیش آیا ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک روز میں اپنی گاڑی بہت زیادہ تیز دوڑا رہا تھا ۔ انتہائی تیزی کی بنا پر میری گاڑی راستہ سے ہٹ گئی ۔ وہ گیند کی طرح لڑھک گئی اور سڑک کے کنارے ایک بھاری کھمبے سے جاکر ٹکرا گئی ۔

میرے سر میں سخت چوٹیں آئیں ۔ اس کے بعد لمبے عرصہ تک میں اسپتال میں زیر علاج رہا۔ ڈاکٹروں کی زبردست کوشش اور جدید ترین طبی ذرائع کے استعمال کے باوجود میں دوبارہ اچھا نہ ہوسکا ۔ اس کے نتیجہ میں میں نے اپنی آنکھ کھودی ۔ میں نے اپنی آنکھ کے علاج کے لیے ساری ممکن کوشش کر ڈالی ۔ مگر میری بینائی واپس نہ آسکی ۔ اب یہ حال ہے کہ میں بالکل اندھا ہو چکا ہوں ۔ اب میں اپنے شوق مطالعہ کو پورا کرنے پر قادر نہیں جو چھوٹی عمر سے میری زندگی میں شامل ہو گیا تھا ۔ اور آخر تک میری روزانہ زندگی کا جزو بنا رہا۔ یہ مضمون اس جملہ سے شروع ہوتا ہے کہ کوئی شخص نعمت کی قدر اس وقت تک نہیں پہچانتا جب تک وہ اسے کھو نہ دے (لا احد يدرك قيمة النعمة حتى يفقدها)

‹ Previous page Next page › Contents of May 1990 All issues

Printed page