شما حذر بکنید
الرسالہ، مئی ۱۹۹۰، صفحہ ۴۱
اور اس فقرہ پر ختم ہوتا ہے کہ میں یہاں اپنا قصہ اس لیے بیان کر رہا ہوں کہ شاید وہ دوسروں کے لیے نصیحت ہو (واسوق حکایتی ھنالعل فیھا العبرۃ للآخرین)
اس واقعہ میں جو سب سے بڑا سبق ہے، وہ یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔ اس دنیا میں ایک کام کو کرنے کے لیے دوسرے کام کو چھوڑنا پڑتا ہے ۔ پورب کی طرف سفر کرنے کے لیے پچھم کی طرف سفر کرنے سے اپنے آپ کو باز رکھنا پڑتا ہے ۔ اس دنیا میں جو شخص " چھوڑنے " کے لیے تیار نہ ہو وہ " پانے " کے بارہ میں اپنے حوصلوں کو پورا نہیں کر سکتا۔
اگر آپ مطالعہ کتاب کا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنی گاڑی کو ہلکی رفتار سے چلائیے تاکہ وہ حادثہ کی شکار نہ ہو۔ اگر آپ تعلیم و تجارت کے میدان میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو جھگڑے کی باتوں سے اپنے آپ کو دور رکھیے ، ورنہ آپ کا تمام منصوبہ دوسروں سے ٹکراؤ کے نتیجہ میں چور چور ہو جائے گا۔ اگر آپ صالح نظریات کی بنیاد پر انسانی زندگی کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو حکمرانوں سے سیاسی نزاع نہ کیجئے ، ورنہ اصل تعمیری کام تو نہ ہوگا، البتہ حکمرانوں کے خلاف جھوٹی لڑائی میں آپ کا سارا وقت اور آپ کا سارا اثاثہ برباد ہو جائے گا۔ اگر کوئی نادان آدمی خواہ مخواہ لڑ مرنے ہی کو اپنی زندگی کا مقصد بنالے تو ایسے آدمی کو اس حکمت کا لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر جس آدمی کا مقصد یہ ہو کہ وہ دنیا کے مواقع کو استعمال کر کے ایک کامیاب زندگی کی تعمیر کرے گا ، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ زندگی کی اس حکمت کو آخری حد تک پکڑے اور کسی بھی حال میں اسے نہ چھوڑے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو آخر میں اس کے حصہ میں اس کے سوا اور کچھ نہ آئے گا کہ وہ دوسروں کو اپنی بربادی کا قصور وار ٹھہرا کر ان کے خلاف احتجاج کرتا رہے ، جب کہ وہاں اس کی اپنی ذات کے سوا کوئی اس کا احتجاج سننے کے لیے بھی موجود نہ ہو ۔
زیر طبع کتابیں تجدید دین صفحات ۸۸ راه عمل ۱۵۲ عقليات اسلام ۱۴۰