ناکامیوں کے بعد
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۸
بابر نے پہلی بار ۱۵۱۹ میں ہندوستان پر حملہ کیا ۔ اس کی پیش قدمی جاری رہی ۔ یہاں تک کہ ۱۵۲۶ میں اس نے دہلی اور آگرہ پر قبضہ کر کے ہندوستان میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ اپنے وطن فرغانہ کو اس نے ایک شکست خوردہ انسان کی حیثیت سے چھوڑا تھا ، مگر ۲۶ دسمبر ۱۵۳۰ کو آگرہ میں جب اس کا انتقال ہوا تو تاریخ اس کو اپنے صفحات میں ایک فاتح بادشاہ کی حیثیت سے درج کر چکی تھی ۔ بابر کو کامیابی اس حوصلہ مندانہ عمل کی بنا پر ہوئی کہ اس نے اپنی ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کیا ۔ اس نے خود ناکامی کے اندر وہ پہلو تلاش کر لیے جو اس کو عظیم تر کامیابی کی طرف لے جانے والے ہوں ۔ بابر کو جب اپنے حریفوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی تو اس نے شکایتی انداز اختیار نہیں کیا ۔ اس نے ایسا نہیں کیا کہ وہ ان کی سازشوں اور ان کے تخریبی منصوبوں کی فہرست مرتب کرنے لگے ۔ وہ اپنے حریفوں کے خلاف لفظی گولہ باری میں مشغول ہو جائے ۔
اس کے بجائے بابر نے اپنا ذہن اس سوچ میں لگایا کہ میرے حریفوں کو میرے مقابلے میں کامیابی کیونکر حاصل ہوئی ۔ میری ہار اور ان کی جیت کا سبب کیا تھا ۔ بابر کی اس سوچ نے اس کو بتایا کہ اس کے حریف زیادہ کار گر تدبیروں کو جانتے تھے ۔ انھوں نے زیادہ مؤثر حربے استعمال کر کے اس کو ناکام بنا دیا ۔
اب بابر نے اپنے حریف کے حربوں اور ان کی تدبیروں کو اپنانا شروع کیا ۔ اس نے مزید غور و تجربہ کے ذریعہ ان کو مزید ترقی یافتہ بنایا ۔ اس طرح زیادہ بہتر طور پر مسلح ہو کر اس نے ایک نئے وسیع ترمیدان (برصغیر ہند) کی طرف رخ کیا ۔ اس کی یہ تدبیر کامیاب رہی ۔ اپنے وطن میں اس نے جتنا کھویا تھا ، اس سے بہت زیادہ اس نے وطن کے باہر حاصل کر لیا ۔
موجودہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے ۔ یہاں دوسروں سے ٹکراؤ ہوتا ہے ۔ اس لیے ناکامیوں کا پیش آنا لازمی ہے ۔ کامیاب وہ ہے جو اپنی ناکامی کو اپنے لیے غذا بنا سکے ۔ وہ کھونے میں پانے کا راز دریافت کر لے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues