بے ترتیب نماز
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۹
بے ترتیب نماز
ایک شخص اگر ایسا کرے کہ وہ نماز پہلے پڑھ لے اور وضو اس کے بعد کرے تو ایسے آدمی کو نماز پڑھنے والا نہیں کہا جائے گا ، شریعت کی نظر میں وہ ایک سرکش آدمی ہے نہ کہ نمازی آدمی ۔ اگر کوئی شخص اس قسم کی بے ترتیب نماز پڑھے تو اگر چہ وہ بظاہر نماز کے تمام اجزاء کو دہرارہا ہو گا مگر اس کی بے ترتیبی اس کی نماز کو باطل کر دے گی ۔ کوئی بھی عالم یا فقیہ اس کو نمازی تسلیم نہیں کرے گا۔
دنیا میں آپ کو ایسا کوئی مسلمان نہیں ملے گا جو اس قسم کی بے ترتیب نماز پڑھے۔ کیوں کہ وہ نماز کے معاملہ میں اس مسئلہ کو اچھی طرح جانتا ہے ۔ اس کو یقین ہے کہ ایسی بے ترتیب نماز خدا کے یہاں قبول ہونے والی نہیں ۔ مگر ایک اور معاملہ میں ہر جگہ کے مسلمان اسی قسم کی نماز پڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے " نماز " پڑھ لیں ، اور اس کے بعد " وضو " کریں۔ اس تبدیلی یا تحریف) کے باوجود ان کو مجاہد اسلام کا خطاب مل رہا ہے ۔
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اعلان کے مطابق ، اسلامی حکومت یا اسلامی نظام قائم کرنے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے آپ نے لمبی مدت تک رات دن محنت کر کے لوگوں کا ذہن بنایا ۔ اس کے بعد اسلامی قانون کا نفاذ کیا ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مجاہدین اسلام اس کے برعکس یہ چاہتے ہیں کہ پہلے حکومت پر قبضہ کریں ، اس کے بعد افراد کا ذہن بنا ئیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے ملک حاصل کرو ، اس کے بعد اسلامی زندگی کی تعمیر کرو ۔ پہلے فاسد حکمراں کو ہلاک کرو ، اس کے بعد صالح قیادت پیدا کرو ۔ پہلے سینما ہاؤس کی عمارت کو توڑو ، اس کے بعد سینما بینی کا خاتمہ کرو ۔ پہلے سیاسی تبدیلی لے آؤ ، اس کے بعد افراد کا ذہن بدلو ۔ پہلے وزارت اعلام پر قبضہ کرو ، اس کے بعد وسائل اعلام کو اسلام کے لیے استعمال کرو ۔
اس قسم کی تمام کارروائیاں " پہلے نماز اور اس کے بعد وضو " کی مصداق ہیں ۔ معروف نماز کی ترتیب چونکہ تسلسل کے ساتھ زمانہ نبوت سے چلی آرہی ہے ، اس لیے تسلسل اور تواتر نے اس کی ہیئت کو لوگوں کی نظر میں اٹل بنا دیا ہے ۔ وہ اس کے خلاف سوچنے کی جرات نہیں کرتے ۔ اس کے برعکس اسلامی حکومت کے قیام کے بارے میں اس قسم کا عملی تواتر یا مسلسل مشاہدہ موجود نہیں ۔ اس لیے اس کی ترتیب کا معاملہ لوگوں کو اس
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues