صحابی کا طریقہ
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۱۳
اس کو اپنے ملک میں استحکام حاصل ہو۔ خدا کی قسم، ہم اسی حال میں تھے کہ زبیر بن عوام واپس آئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تم لوگوں کو بشارت ہو، اللہ نے نجاشی کو فتح دی اور اس کے دشمن کو ہلاک کر دیا۔ اس خبر کو سن کر ہم لوگ اتنا خوش ہوئے جتنا کبھی خوش نہیں ہوئے تھے (ابجز: زارا اول صفحہ ۵۳ - ۳۵۲)
مشک میں ہوا بھر کر اس کو تیرنے کے لیے بطور معاون استعمال کرنا عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں لائف بوائے (lifebuoy) کہا جاتا ہے۔ جدید لائف بوائے کی بہت سی قسمیں ہیں ۔ قدیم مشک گویا اسی تکنیک کی سادہ اور ابتدائی صورت تھی۔
مکہ میں دریا نہ تھا، اس لیے مکہ میں اس تدبیر کارواج نہیں ہو سکتا۔ گمان غالب یہ ہے کہ ان مسلمانوں نے حبش میں اس تدبیر کو معلوم کر کے اس کو استعمال کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئی چیزوں کی تلاش کا کتنا زبردست جذبہ ان مسلمانوں کے اندر ابھر آیا تھا۔ حضرت زبیر ابن عوام ایک صحابی رسول تھے ۔ ان کے اندر بلاشبہ کامل اور معیاری ایمان پایا جاتا تھا۔ مگر اپنے سینہ میں اعلیٰ ترین اور طاقت ور ترین ایمان کا سرمایہ رکھنے کے باوجود انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ بس جوش کے تحت دریا میں کود پڑیں۔ وہ کہیں کہ ہمارے پاس ایمان کی دولت موجود ہے، اس لیے اب ہم کو مزید کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔
انھوں نے اس قسم کے جوشِ ایمان کا مظاہرہ کرنے کے بجائے یہ کیا کہ زمانہ کے مطابق، تیراکی کی تدبیر دریافت کی اور اس کو عین اس طرح استعمال کیا جس طرح دوسرے غیر مسلم لوگ اس کو استعمال کر رہے تھے۔ وہ دریا میں کودے، مگر تدبیری اہتمام کے ساتھ۔ وہ اپنے ایمانی جذبہ کے تحت متحرک ہوئے، مگر اسباب کی ضروری شرطوں کو پورا کر لینے کے بعد۔ یہ صحابہ کا اسلام تھا۔ اور اسلام بلا شبہ وہی ہے جو صحابہ نے اختیار کیا۔ زیر طبع کتابیں . راه عمل • عقليات اسلام . رشديات
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues