صحابی کا طریقہ
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۱۲
صحابی کا طریقہ
مکی دور کے آخری زمانہ میں مخالفین کی زیاد تیاں بہت بڑھ گئیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو اجازت دیدی کہ ان میں سے جو لوگ چاہیں وہ سمندر پار ملک حبش چلے جائیں۔ چنانچہ ایک سو سے زیادہ آدمی مکہ چھوڑ کر حبش چلے گیے۔ یہ اسلامی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے اور بہت سے واقعات اس سے وابستہ ہیں۔ اس سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ مسلمان حبش میں پر امن طور پر رہ رہے تھے ۔ ان کی پاکیزہ سیرت کے نتیجہ میں وہاں کا بادشاہ نجاشی بھی ان کی نہایت عزت کرتا تھا۔ اس درمیان میں ایک حادثہ پیش آیا۔ امام احمد نے ام سلمہ سے روایت کیا ہے کہ ہم لوگ حبش میں بہتر ملک اور بہتر پڑوسیوں کے درمیان تھے کہ نجاشی کے ایک حریف بادشاہ نے اس کے اوپر چڑھائی کر دی۔ ہم لوگوں کو اس کا بہت زیادہ دکھ ہوا۔ نجاشی اپنی فوج کے ساتھ مقابلہ کے لیے نکلا۔ یہاں تک کہ وہ دریائے نیل کے اس پار چلا گیا۔
چند دنوں کے بعد اصحاب رسول نے آپس میں کہا کہ ہم میں سے کسی شخص کو مقام جنگ پر جانا چاہیے اور وہاں سے خبر لانا چاہیے۔ زبیر بن عوام نے کہا کہ میں جاؤں گا۔ وہ اس وقت نوجوان تھے :
قالت فنفخوا له قربة فنجعلها في صدره فسبح عليها حتى خرج الى ناحية النيل التي بها ملتقى القوم ثم انطلق حتى حفرهم ام سلمہ کہتی ہیں کہ لوگوں نے ان کے لیے ایک مشک میں پھونک مار کر ہوا بھری۔ پھر انھوں نے اس کو اپنے سینہ پر باندھا۔ اس کے بعد وہ نیل میں داخل ہوئے اور اس کے سہارے سے تیر کر دریا کے دوسری جانب پہونچے جہاں میدانِ مقابلہ قائم تھا۔ پھر وہ مزید چلے یہاں تک کہ وہ ان لوگوں تک پہونچ گئے۔
حضرت ام سلمہ مزید بتاتی ہیں کہ ہم لوگ نجاشی کے لیے دعا کرتے رہے کہ اس کو فتح ہو اور
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues