Al-Risala · June 1990 · page 22

نفرت، محبت

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۲۲

نہ دکھاسکا۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ رسول کا پانی محبت کا پانی تھا۔ اور موجودہ مسلمانوں کا خون نفرت کا خون ہے ۔ رسول نے انسان کے اوپر معافی، خیر خواہی، شفقت اور مہربانی کی بارش برسائی تھی۔ اس کے برعکس آج کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ انسان کے اوپر نفرت اور غصہ اور اشتعال کا خون انڈیل رہے ہیں ۔ یہی وہ فرق ہے جس نے دورِ اول کے عمل کا یہ نتیجہ پیدا کیا تھا کہ قومیں کی قومیں اور قبیلے کے قبیلے اسلام کے سایہ میں داخل ہوگیے ۔ اسلام ساری دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ غالب دین بن گیا ۔ اور موجودہ زمانہ میں اسلام ساری دنیا میں حقیر ہورہا ہے، وہ ایک بلین مسلمانوں کے باوجود ساری دنیا میں کمزور اور مغلوب مذہب بنا ہوا ہے ۔ ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر دو مختلف صلاحیتیں ہیں ۔ ایک نفسِ لوامہ (ضمیر)، اور دوسرے، نفسِ امارہ (انانیت)۔ یہ دونوں صلاحیتیں ابتدائی طور پر سوئی ہوئی حالت میں ہوتی ہیں ۔ اب اگر آپ فریقِ ثانی کے نفسِ لوامہ کو جگائیں تو اس کی شخصیت کا انسانی جزو آپ کے حصہ میں آئے گا ۔ اور اگر آپ فریقِ ثانی کے نفسِ امارہ کو جگائیں تو اس کی شخصیت کا حیوانی جزو آپ کے حصہ میں آئے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ آپ آدمی کے وجود کے انسانی حصہ کو جگائیں ۔ اس لیے آپ نہ صرف اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے بلکہ بروں کے ساتھ بھی آپ ہمیشہ اچھا سلوک کرتے تھے ۔ اس کی وجہ سے آدمی کی چھپی ہوئی فطرت جاگتی تھی ۔ اور آخر کار وہ اسلام قبول کر کے آپ کا ساتھی بن جاتا تھا ۔

موجودہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل نہیں کرتے کہ بروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو۔ وہ ہمیشہ ردِ عمل کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔ چنانچہ ان کا طریقہ صرف فریقِ ثانی کی انانیت کو جگانے کا باعث بنتا ہے ۔ خدا کے بندوں کے لیے ان کے پاس ”محبت کا پانی “ نہیں، البتہ ان کے پاس ”نفرت کا خون “ کافی مقدار میں موجود ہے ۔ جس کو وہ لوگوں کے اوپر انڈیلتے رہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو خدا کے اس باغ میں صرف کانٹے ملیں گے ۔ وہ اس باغ کے پھولوں کے مالک نہیں بن سکتے۔ یہی قانونِ قدرت کا فیصلہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues

Printed page