سائنس کی گواہی
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۲۳
سائنس کی گواہی
ڈاکٹر ماریس بوکائی (Dr Maurice Bucaille) فرانس کے ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے قرآن کے بارہ میں ایک کتاب لکھی۔ وہ اولاً فرانسیسی زبان میں ۱۹۷۶ میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد دس زبانوں میں اس کے ترجمے چھپے۔ انگریزی میں اس کتاب کا نام یہ ہے: The Bible, the Qur'an and Science اس کتاب میں ڈاکٹر ماریس بوکائی نے دکھایا ہے کہ علم سائنس کے بارہ میں قرآن کے بیانات حیرت انگیز طور پر جدید تحقیقات کے مطابق ہیں۔ قرآن اگر چہ دور سائنس سے بہت پہلے پیش کیا گیا ، مگر بعد کے زمانہ میں ظاہر ہونے والی علمی حقیقتوں کا اس میں بالکل صحیح بیان موجود ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن ایک برتر ذہن کی تخلیق ہے۔ وہ انسانی ذہن کی تصنیف نہیں (ملاحظہ ہو عظمت قرآن ، اور اسلام اور عصر حاضر )
ڈاکٹر ماریس بوکائی کی دوسری کتاب انسان کی پیدائش اور رحم مادر میں اس کے ارتقاء کے بارہ میں ہے جو کہ ڈاکٹر بوکائی کا خاص موضوع ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے دکھایا ہے کہ انسان کی پیدائش کے بارہ میں قرآن میں جو بیانات ہیں ، وہ جدید تحقیقات کے عین مطابق ہیں، جب کہ ان تحقیقات کے نتائج صرف بیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں انسان کو معلوم ہو سکے ہیں۔ ڈاکٹر بوکائی کی اس دوسری کتاب کا فرانسیسی ایڈیشن ۱۹۸۳ میں پیرس سے شائع ہوا۔ ۲۲۰ صفحات پر مشتمل اس کتاب کے انگریزی ایڈیشن کا نام یہ ہے :
What is the Origin of Man? Published by Seghers, 6 Place Saint-Sulpice, 75006 Paris ڈاکٹر ماریس بوکائی اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں کہ مجھے فرانس میں یہ بتایا گیا تھا کہ قرآن محمد کی کتاب ہے۔ انھوں نے اس کو بائبل سے کچھ گھٹا کر یا بڑھا کر تیار کر لیا ہے۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر میں قدرتی طور پر یہ سمجھتا تھا کہ بائبل کے اندر جو علمی غلطیاں (scientific errors) ہیں ، وہ لازماً قرآن کے اندر بھی ہونی چاہئیں (۱۵۷)
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues