Al-Risala · June 1990 · page 27

عمل کے نام پر بے عملی

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۲۷

میں کہ اسلاف پرستی بہت عمدہ شیوہ ہے مگر اسی حد تک کہ ہم اپنے بزرگوں کی محنت ، ان کی یک رنگی، ان کی نفس کشی کی تقلید کریں اور ان کا صبر واستقلال ، ان کا سا انہماک طلب علم میں پیدا کریں۔ ۔۔ یہ کہ ہمارے بزرگوار جو کچھ اپنے وقت میں کر گئے تھے ، ان پر غرہ کریں اور مثل زن بیوہ کے ان کے نام بیٹھے رہیں اور ان کی علمی بزرگیوں کا تذکرہ دوسروں سے سن کر زمانہ حال کی دولتِ علمی کو حقیر سمجھیں اور اس کے دریافت سے اغماض کریں ۔ (موج کوثر ۸۳- - ۲۸۲)

اس زمانہ میں مسلمانوں کے احیاءِ نو کی سب سے زیادہ آسان تدبیر یہ سمجھ لی گئی تھی کہ ماضی کی شاندار تاریخ کو یاد دلا کر لوگوں میں حال کا ولولہ پیدا کیا جائے ۔ یہ مزاج اتنا بڑھا کہ خود مولانا شبلی نعمانی اس کا شکار ہو گئے جنہوں نے ابتدائی طور پر اس کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔ چنانچہ بعد کے زمانہ میں انھوں نے خود بھی یہی کیا کہ دور فتوحات کے کارنامے بتا کر مسلمانوں میں جوش عمل پیدا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

مگر یہ طریقہ سراسر بے فائدہ ہوتا۔ اس تدبیر میں بنیادی خامی یہ تھی کہ وہ "تیاری" کے دور کو حذف کر کے صرف "نتیجہ" کے دور کو نمایاں کر رہا تھا۔ وہ ابتدائی جدوجہد کو چھوڑ کر آخری منزل سے اپنے سفر کا آغاز کر نا چاہتا تھا۔ ایسا سفر اس اسباب کی دنیا میں کبھی شروع نہیں ہوتا۔ چنانچہ سو سال کے پر جوش لفظی ہنگاموں کے باوجود وہ شروع بھی نہ ہوسکا ، اور منزل پر پہنچنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ اس قسم کی تحریکیں آدمی کے اندر صرف فخر کا جذبہ ابھارتی ہیں۔ حالانکہ احیا نو کے لئے اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر عمل کا جذبہ ابھار اجائے۔ اس طرح یہ طریقہ ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ اور ایسا ہی وہ ہمارے حق میں ثابت ہوا۔ مسلمان فرضی بھرم میں مبتلا ہو کر ایک ایسی قوم بن گئے جس کے پاس الفاظ کی دھوم تو بہت ہے مگر حقیقی عمل کا سرمایہ اس کے پاس موجود نہیں۔ اقوالِ حکمت صفحات ۱۹۶ ۲۰ روپیہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues

Printed page