عمل کے نام پر بے عملی
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۲۶
عمل کے نام پر بے عملی
شیخ محمد اکرام (آئی سی ایس) کی کتاب "موج کو ثر ۳۶۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں انیسویں صدی کے آغاز سے لے کر ۱۹۴۷ تک کی مسلم تحریکوں اور رہنماؤں کا ذکر ہے۔ اس کے ایک باب کا عنوان ہے" دورِ رد عمل کی خصوصیات" اس باب کے تحت وہ لکھتے ہیں: "دورِ رد عمل میں ”پدرم سلطان بود“ اور ”ہمچو ما دیگری نیست“ کی آوازیں جس طرح بلند ہوئیں، اس پر دیدہ ور لوگوں نے کان کھڑے کئے اور آنکھیں دکھائیں۔ علامہ شبلی نے، جب وہ ابھی علی گڑھ سے وابستہ تھے اور سرسید کے رفیق کار تھے، اُن خدشات کو بڑے لطف سے نظم کیا جو سلف پرستی سے پیدا ہونے والے تھے:
سلف کا تذکرہ جو بہت وجہیات کا ہے افسوں ہمارے حق میں وہ سرمایہ خواب پریشاں ہے یہ افسانے بڑھاتے ہیں ہماری نیند کی شدت یہ افسوں حق میں اپنے اور مدہوشی کا ساماں ہے ہمیں احساس تک ہوتا نہیں اپنی تباہی کا کہ سب پیش نظر اسلاف کی وہ شوکت و شاں ہے ہماری کلفتیں سب دور ہو جاتی ہیں یہ سن کر کہ دنیا آج تک اسلام کی ممنونِ احساں ہے مزے لیتے ہیں پہروں تک کسی سے جب یہ سنتے ہیں کہ یورپ دولت عباس کا اب تک ثناخواں ہے نہیں رہنے کو یاں گھر تک، مگر چپ چے یہ رہتے ہیں کہ اب تک قصرِ مراقبہ گاہِ رہ نورداں ہے ہیں خود اَن پڑھ، مگر اس زعم میں اترائے پھرتے ہیں کہ دنیا میں ہمیں سے زندہ اب تک نامِ یوناں ہے نظر آتے ہیں، ہم کو عیب اپنے خوبیاں بن کر ہم اپنے جہل کو بھی یہ سمجھتے ہیں کہ عرفاں ہے نواب عماد الملک بلگرامِی نے بھی اس کے چند سال بعد علی گڑھ ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں کہا:
ہم مسلمانوں میں آج کل ایک نیا مرض شائع ہو گیا ہے۔ جس کو اسلاف پرستی کہتے ہیں... ان حضرات نے آفت برپا کر دی ہے۔ کوئی مسلمانوں کی علمی دولت کو شمار کرتا ہے۔ کوئی تمدنی خو بیاں گنتا ہے۔ کوئی ہمارے مدارس اور یونیورسٹیوں کی فہرست تیار کرتا ہے۔ کوئی ہماری یونانی کتابوں کے ترجموں کا حساب دیتا ہے۔ کوئی اندلس کی حکومت کا زور دکھاتا ہے۔ کوئی ہارون اور مامون کی شان بیان کرتا ہے۔ اس میں شک
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues