Al-Risala · June 1990 · page 33

احیا قلب ، احیا حکومت

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۳۳

مرد کو اللہ تعالیٰ نے فعال صفات کے ساتھ پیدا کیا ہے اور عورت کو منفعل صفات کے ساتھ۔ دونوں صنفوں کے فریضہ حیات کے اعتبار سے یہی فطری تقسیم ہے۔ مغرب میں اس تقسیم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر آخر کار فطرت غالب آئی۔ انسان کے خود ساختہ نظریات بے حقیقت ہو کر رہ گئے۔ جہاز میں ایک صاحب آکر میرے قریب کی خالی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ عملہ کے ایک آدمی نے ان کے بورڈنگ کارڈ کو دیکھ کر کہا کہ یہ اوپر کا درجہ ہے، آپ کا ٹکٹ اکانومی کلاس کا ہے۔ اس لئے آپ پیچھے کی سیٹ پر جائیں۔ وہ صاحب نہایت اطمینان کے ساتھ اپنی سیٹ پر بیٹھے رہے۔ دیر تک بحث کرنے کے بعد آخر کار وہ اٹھے اور جہاز کے آدمی کو برا بھلا کہتے ہوئے دوسرے درجہ میں چلے گئے۔ موجودہ سیٹ پر بیٹھنے کے لئے ان کی دلیل یہ تھی کہ وہاں تو کوئی شخص بیٹھا ہوا نہیں ہے: Nobody is sitting here. مسافر کو معلوم نہ تھا کہ اس دنیا میں کوئی سیٹ آدمی کو اس لئے نہیں ملتی کہ وہ خالی ہے۔ یہاں کوئی سیٹ آدمی کو ملتی ہے تو اس لئے ملتی ہے کہ اس نے اس کی ضروری قیمت ادا کی ہے۔ جہاں دوسرے لوگ قیمت ادا کر کے بیٹھے ہیں وہاں آپ قیمت ادا کئے بغیر اپنے لئے نشست نہیں پا سکتے۔ یہ زندگی کی ایک سادہ حقیقت ہے۔ مگر بہت سے لوگ اس سادہ حقیقت کو نہیں جانتے۔

مارچ ۱۹۹۰ کی ۱۷ تاریخ ہے۔ گھڑی میں دن کے ایک بجے ہیں۔ ہمارا جہاز تقریباً ۳۰ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہا ہے۔ میں نے جہاز کی کھڑکی کے باہر دیکھا تو سورج کی تیز روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی ۔ جہاز کے نیچے گہرے بادلوں کی تہیں دکھائی دے رہی تھیں۔ اس وقت اگر آپ نیچے زمین کی سطح پر کھڑے ہوئے ہوں تو آپ کو اپنے چاروں طرف اندھیرا پھیلا ہوا نظر آئے گا۔ مگر عین اسی وقت بادلوں کے اوپر کل سورج اپنی پوری تابانی کے ساتھ چمک رہا تھا۔

میں نے سوچا کہ اسی طرح زندگی کے مطالعہ کی بھی دو سطحیں ہیں۔ زندگی کے معاملہ کو ایک رخ سے دیکھئے تو آپ کو اپنے ماحول میں ہر طرف مشکلات کے اندھیرے پھیلے ہوئے دکھائی دیں گے۔ مگر ٹھیک اس وقت ایک اور سطح موجود ہوتی ہے، اگر آپ اس دوسری سطح سے دیکھیں تو زندگی روشن امکانات سے بھری ہوئی دکھائی دینے لگے گی۔

مثال کے طور پر جو لوگ آج مسلمانوں کے معاملہ کو مادی اور سیاسی اعتبار سے دیکھتے ہیں ان کو

‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues

Printed page