احیا قلب ، احیا حکومت
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۳۶
اردن کے علاقہ میں تاریخی آثار بہت ہیں۔ مثلاً اسی ملک میں بطرا (Petra) اور جراش واقع ہیں۔ یہاں قدیم سلطنتوں کے چھوڑے ہوئے نشانات پائے جاتے ہیں۔ ایک سیاح کے لئے یہ مقامات صرف تفریح کے مقامات ہیں، مگر مومن کی نگاہ سے دیکھا جائے تو وہ عبرت اور نصیحت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: قل سیروا فی الارض ثم انظروا کیف کان عاقبة المكذبین (الأنعام)
اردن کے ایک میگزین میں ایک اشتہار دیکھا۔ اس میں عالمی سیاحوں کو ترغیب دلائی گئی تھی کہ وہ اردن آئیں اور یہاں کے تاریخی مناظر دیکھیں۔ اس کا عنوان تھا : Discover Jordan: the jewel of the Middle East اس مضمون میں سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لئے خاص طور پر بطرہ کے سنگی مکانات کی تصویریں دی گئی تھیں۔ قدیم زمانہ میں سنگ تراشی کی ایک صنعت پیدا ہوئی۔ اس کے تحت پہاڑوں کو تراش کر انھیں مکان کی صورت میں تبدیل کر دیا جاتا تھا۔ بطرہ میں اسی قسم کی عمارتیں ہیں۔ ایلورا اور اجنتہ بھی اسی قسم کی سنگ تراشی کے نمونے ہیں۔
ایک عرب قبیلہ نے یہاں ایک سلطنت قائم کی تھی جن کو نبطی (Nabataeans) کہا جاتا ہے۔ یہ ۳۱۲ ق م کا واقعہ ہے۔ یہاں انھوں نے پہاڑوں کو تراش کر خوبصورت مکانات بنائے اور اس کو اپنی راجدھانی قرار دیا۔ رومیوں نے اس کو ۱۰۶ ء میں فتح کیا۔ ۶۳۵ء میں وہ اسلامی علاقہ میں شامل کیا گیا۔ مغربی مورخین جب اس کا ذکر کرتے ہیں تو وہ رومیوں کے تذکرہ کے ذیل میں رومی عہد (Roman times) کا لفظ لکھتے ہیں، اور مسلمانوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس کے لئے اسلامی حملہ (Islamic invasion) کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یہ فرق بلاشبہ قابل شکایت ہے۔ مگر بدقسمتی سے مسلمان جب اپنی تاریخ اور دوسروں کی تاریخ پر لکھتے ہیں تو وہ بھی اسی طرح دہرا انداز اختیار کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں کم از کم مسلمانوں کو اس شکایت کا حق نہیں۔
اردن کی آمدنی کا ایک خاص ذریعہ سیاحت ہے۔ اور سیاحوں کے لئے یہاں سب سے زیادہ پرکشش چیز بطرا وغیرہ کے قدیم آثار ہیں۔ یہ آثار جو تاریخی اور اقتصادی دونوں اعتبار سے اتنے قیمتی ہیں، ان کو پہلی بار سوئٹزرلینڈ کے ایک سیاح برکھارٹ (John Lewis Burckhardt) نے ۱۸۱۲ء میں دریافت کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues