Al-Risala · June 1990 · page 37

احیا قلب ، احیا حکومت

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۳۷

حضرت داؤد علیہ السلام کے بارہ میں ایک یہودی روایت ہے جس کا تعلق اسی عمان (عمون) سے ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ۔ داؤد نے بادشاہی محل کی چھت سے ایک عورت کو دیکھا جو نہار ہی تھی۔ وہ نہایت خوبصورت تھی۔ داؤد نے اس عورت کو اپنے محل میں بلایا اور اس سے صحبت کی۔ اس کے بعد وہ حاملہ ہو گئی ۔ اب داؤد نے اس عورت کے شوہر حتی اور یاہ کو عمون کی جنگ میں بھیج دیا اور سردار فوج سے کہا کہ اس کو گھمسان میں سب سے آگے رکھنا اور تم اس کے پاس سے ہٹ جانا تاکہ وہ مارا جائے۔ چنانچہ حتی اور یاہ مار اگیا اور پھر وہ عورت داؤد کی بیوی ہو گئی۔ اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ پر اس کام سے جسے داؤد نے کیا تھا خداوند ناراض ہوا (۲۔ سموئیل باب ۱۱ ) حضرت داؤد کے یہی فرزند ہیں جو حضرت سلیمان علیہ السلام کہے جاتے ہیں۔ یہ لغو قصہ قرآن (ص ۲۳) کے تحت خود ہماری تفسیروں میں بھی آگیا ہے۔ مفسرین نے اس پر لمبی بحثیں کی ہیں۔ چنانچہ مستشرقین کو موقع مل گیا کہ وہ اس کو قرآن کے ساتھ منسوب کردیں۔ ایک مستشرق نے لکھا ہے کہ داؤد نے اور یا حتی کو ایک جنگ میں قلعہ کی دیوار تک بھیج دیا تاکہ وہ مارا جائے اور وہ اس کی بیوی سے نکاح کر سکیں۔ یہ واقعہ مسلم کہانیوں کا بھی ایک حصہ ہے :

....the incident is also a part of Muslim folklore (I/317)

عمان کی آبادی تقریبا ۶ لاکھ ہے۔

۴۹ - ۱۹۴۸ میں عربوں اور اسرائیل کے درمیان جو جنگ ہوئی، اس کے بعد فلسطینی پناہ گزیں عمان میں آنے لگے۔ ۱۹۶۷ کی جنگ کے بعد دریائے اردن کے مغرب کا پورا علاقہ اسرائیل کے قبضہ میں چلا گیا۔ اب فلسطینی پناہ گزیں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ عمان جو پہلے ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، اب بہت بڑا شہر بن گیا۔

غالباً ۱۹۶۹ کی بات ہے۔ میری ملاقات اردن کے ایک فلسطینی سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اردن میں ہماری طاقت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہم جب چاہیں اردن کی حکومت پر قبضہ کر لیں۔ فلسطینیوں کا یہی ذہن تھا جس کی بنا پر ۱۹۷۰ میں فلسطینیوں اور حکومت اردن کے درمیان باقاعدہ سول وار چھڑ گئی۔ اردن نے نہایت فیاضی کے ساتھ فلسطینیوں کو پناہ مہمان بنایا تھا۔ مگر جب یہ نوبت آئی تو حکومت نے نہایت سختی کے ساتھ ان کو کچل دیا۔ حتی کہ فلسطینی کیمپوں پر بمباری کی گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues

Printed page