احیا قلب ، احیا حکومت
الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۴۱
ے مارچ کو میں نے فجر کی نماز دہلی کے ہوائی اڈہ پر پڑھی تھی ۔ اسی دن میں عصر کی نماز کے وقت طرابلس کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا ۔ موجودہ زمانہ میں تیز رفتار سواریوں نے سفر کے معاملہ کو کتنا زیادہ آسان بنا دیا ہے ۔ ہوائی جہاز اپنے اندر سیکڑوں مسافروں کو بیٹھا کر ہوا میں اڑتا ہے اور خشکی اور پہاڑ اور سمندر کی ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے نہایت تیز رفتاری کے ساتھ لوگوں کو ان کی منزل پر پہنچا دیتا ہے ۔ یہ کتنا حیرت ناک واقعہ ہے ۔ آج بے شمار لوگ اس سفری سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ مگر ان میں شاید ہی کوئی ہو جس کا حال یہ ہو کہ خدا کی اس عظیم نعمت کو سوچ کر اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور وہ استعجاب (awe) کے سمندر میں غرق ہو کر کہہ اٹھے : فبای آلاء ربکما تکذبان ۔
فلپائن کے ایک صاحب (احمد نوح) سے ائیر پورٹ پر ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے بتایا کہ فلپائن میں سات ملین مسلمان ہیں ۔ مسلمان تعلیمی اعتبار سے بہت پیچھے ہیں ۔ حتیٰ کہ ان کے بیان کے مطابق سارے فلپائن میں ایک بھی مسلمانوں کا پریس موجود نہیں ۔
فلپائن کے ایک علاقے میں مسلمان آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں ۔ اس تحریک آزادی کے لیڈر پہلے صرف مسٹر نور میسواری تھے ۔ ہاشم سلامات ان کے نائب تھے ۔ اب دونوں میں سخت اختلاف ہو گیا ہے ۔ دونوں الگ الگ اپنی تحریکیں چلا رہے ہیں ۔ احمد نوح صاحب دونوں لیڈروں سے ملے ۔ انھوں نے نور میسواری سے کہا کہ اگر آپ نے اپنی سیاست کو نہ بدلا تو انقلاب ناکام ہو جائے گا۔ (ان لم تغير سِياسَتَكَ الآن فالثورة ستفشل) ، مگر دونوں کو متحد کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی ۔
ان کی گفتگو سے میں نے اندازہ کیا کہ فلپائن کے دونوں لیڈر اگرچہ اپنے اختلاف اور علیحدگی کے لئے اصولی الفاظ بولتے ہیں ، مگر اصلًا یہ قیادت کا جھگڑا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ وہی جھگڑا ہے جو ہندوستان سمیت تمام ملکوں میں پیش آرہا ہے ۔ لوگ اسلام کے نام پر اٹھتے ہیں، کام شروع کرتے ہیں ۔ مگر جلد ہی بعد ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں ۔ اگر ان کی سرگرمیاں حقیقتاً اسلام کے لئے ہوتیں تو اختلاف کے وقت ایک شخص پیچھے ہو جاتا اور پھر اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتا۔ مگر جب اصل مقصد لیڈری ہو اور اسلام کا نام محض نعرہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues