Al-Risala · June 1990 · page 40

احیا قلب ، احیا حکومت

الرسالہ، جون ۱۹۹۰، صفحہ ۴۰

کے لحاظ سے پانچ بجے بحر روم کے اوپر پہنچ گیا۔ اس کے سفر کو نہ خشکی کی پستی اور بلندی نے روکا، اور نہ سمندر اس کی راہ میں حائل ہوا۔ وہ شہری آبادیوں کے اوپر سے بھی اسی طرح تیزی سے گزر گیا جس طرح کھلے میدانوں کے اوپر سے۔

بے شمار لوگ روزانہ ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں۔ مگر مسافروں کے چہرے اور ان کی گفتگوئیں بتاتی ہیں کہ اس قدرتی معجزہ کو سوچ کر کسی کے اندر تورج کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ مذہبی انسان ہو یا سیکولر انسان، دونوں قسم کے لوگ ہوائی جہاز کا سفر تو کر رہے ہیں، مگر ہوائی جہاز کے سفر کے دوران ان کا شعور ربانی مسافت طے نہیں کرتا۔ ان کا حال تقریباً اس چوپا یہ کا سا ہے جس کو ایک مقام پر جہاز میں بیٹھا یا جائے اور لے جاکر اس کو دوسرے مقام پر اتار دیا جائے۔ ۔

اردو کے ایک مرثیہ گو نے قدیم زمانہ میں حضرت حسین اور ان کے خاندان کے سفر کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا تھا کہ خدا نے فرشتوں کو حکم دیا کہ زمین کو مختصر کر کے ان کا راستہ آسان بنا دو : طنابیں کھینچ کر کم کر زمیں کو کہ ہو وے راہ کم ان مہ جبیں کو آج اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے لئے زمین کی طنابیں کھینچ کر سفر کو مختصر بنا دیا ہے۔ مگر قرآن کے مطابق انسانوں میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو قابل شکر باتوں کو شدت کے ساتھ محسوس کریں اور شکر کے جذبات سے سرشار ہو جائیں (سبا ۱۳)۔

ہوائی جہاز کی سواری آج بہت زیادہ عام ہو چکی ہے۔ اس لئے لوگوں کو اس کے غیر معمولی پن کا احساس نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہوائی جہاز اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ ہوائی جہاز نے آج لمبے سفروں کو ہر آدمی کے لئے ممکن بنا دیا ہے۔ ورنہ قدیم زمانہ میں بہت ہی کم افراد لمبے سفر کا حوصلہ کر سکتے تھے۔

لارڈ کرزن ایک بے حد امیر خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان کا بڑے جاہ و جلال کا وائسرائے بنا۔ مگر ۱۸۹۸ء میں جب وہ ہندوستان کا وائسرائے ہو کر روانہ ہوا تو لندن سے کلکتہ تک کا سفر طے کرنے میں اس کو سترہ دن لگ گئے۔ اس وقت تک ہوائی جہاز کا سفر رائج نہیں ہوا تھا۔ آج ایک عام آدمی ہوائی جہاز میں بیٹھ کر چند گھنٹوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم میں پہنچ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1990 All issues

Printed page