ایک جائزہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۴
ایک جائزہ
ظہیر الدین محمد بابر (۱۵۳۰-۱۴۸۳) نے ہندوستان میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔ وہ ۱۵۱۹ میں برصغیر ہند میں داخل ہوا۔ مختلف لڑائیوں کے بعد آخر کار ۱۵۲۶ میں اس نے دہلی اور آگرہ پر قبضہ کرکے مغل سلطنت کا آغاز کیا۔ بابر کے بعد اس کا بیٹا ہمایوں تخت پر بیٹھا۔
جلال الدین محمد اکبر (۱۶۰۵ - ۱۵۲۲) ہمایوں کا بیٹا تھا۔ ہمایوں کی وفات کے بعد ۱۵۵۶ میں وہ مغل تخت پر بیٹھا۔ اس وقت مغل سلطنت ایک غیر مستحکم سلطنت کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ مغلوں کی حیثیت ایک بیرونی حملہ آور کی تھی اور اس بنا پر یہاں کے قدیم باشندوں میں ان کے خلاف ناراضگی پائی جاتی تھی۔ اس ناراضگی کو ختم کرنے کے لیے اکبر نے وہ تدبیر کی جو عام طور پر دین الہی کے نام سے مشہور ہے۔ دین الہی حقیقۃ کوئی دین نہ تھا، وہ ملک میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت کو ختم کرنے کی ایک تدبیر تھی۔ اپنے ظاہری بھونڈے پن کے باوجود یہ تدبیر کارگر ثابت ہوئی، اکبر اس میں کامیاب ہو گیا کہ وہ اپنے سیاسی استحکام کے لیے ملک کی اکثریت کا تعاون حاصل کر سکے۔
اکبر نے یہ کام اگر چہ اپنے سیاسی مفاد کے لیے کیا تھا۔ مگر جب ملک میں ہند و مسلم نفرت ختم ہوئی تو اس کا فائدہ اسلام کو بھی پہنچنے لگا۔ لوگ کثیر تعداد میں اسلام قبول کرنے لگے۔ اکبر سے لے کر شاہجہاں تک لاکھوں کی تعداد میں مقامی باشندے اسلام میں داخل ہوئے۔ اس میں سب سے بڑا دخل اسی معتدل فضا کا تھا جو اکبر کی پالیسی کے ذریعہ پیدا ہوئی۔
اکبر کی نیت کے بارہ میں ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ تاہم اگر بالفرض وہ اتنا ہی برا ہو جتنا کہ کچھ لوگ اس کو سمجھتے ہیں، تب بھی ہمارے مذکورہ تجزیہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اکبر کی میل ملاپ کی پالیسی کے نتیجہ میں ہندوستان میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ نتیجہ کی حد تک یہ واقعہ بدستور مسلم ہے۔ البتہ اگر وہ بالفرض ایک غلط آدمی رہا ہو تو اس کا معاملہ اس حدیث کے تحت شمار کیا جائے گا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ:
ان اللہ ليؤيد هذا الدين برجلي بے شک اللہ اس دین کی مدد فاجر آدمی کے ذریعہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues