Al-Risala · July 1990 · page 5

ایک جائزہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۵

بھی کرے گا ۔

آخری مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر (۱۷۰۷ - ۱۶۱۸) کے زمانہ میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے تعلقات دوبارہ خراب ہو گئے ۔ اورنگ زیب نے اپنی ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں سے راجپوت، مراٹھا اور سکھ ، ہر اک کو اپنا مخالف بناالیا ۔ حتیٰ کہ عام ہندو بھی اس کو ناپسند کرنے لگے۔ اس کے نتیجہ میں از سرِ نو کشیدگی کا ماحول قائم ہو گیا۔ اسلام کے پھیلنے کا جو عمل اکبر کے بعد اپنے آپ جاری ہوا تھا ، وہ رک گیا ۔ ہندو مسلم منافرت کی بنا پر وہ معتدل ماحول ختم ہو گیا جو اسلام کی اشاعت کے لیے ضروری ہے ۔

اورنگ زیب کے بعد مغل سلطنت زوال کا شکار ہو گئی ۔ تا ہم اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد صوفیاء کو کھڑا کیا ۔ سارے ملک میں صوفیاء اپنی خانقاہیں بن کر بیٹھ گئے ۔ ان کا خاص مقصد لوگوں کو محبت کا پیغام دینا تھا ۔ صوفیاءکو اپنے اس مشن میں غیر معمولی کامیابی ہوئی۔ ہندو اور مسلمان دونوں بہت بڑی تعداد میں ان کے حلقہ میں شامل ہو گئے ۔ یہاں تک کہ صوفیار ہی سماج کا وہ عنصر بن گئے جو سماج کے اوپر سب سے زیادہ اثر رکھتا تھا اور لوگوں کے مزاج کی تشکیل کرتا تھا ۔

بابر کی پیدا کی ہوئی نفرت کو اکبر نے ختم کیا تھا ، اورنگ زیب کی پیدا کی ہوئی نفرت کو صوفیار نے ختم کیا ۔ اس کے بعد دوبارہ وہ معتدل فضا قائم ہوگئی جو اسلام کی اشاعت کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اورنگ زیب کے بعد اگرچہ مغل سلطنت پر زوال آگیا ، مگر اسلام کی اشاعت تیزی سے جاری ہو گئی ۔ اس دور میں دوبارہ لاکھوں لوگ اسلام کے حلقہ میں داخل ہو گئے ۔ اسلام کی اشاعت کا یہ عمل بیسویں صدی کے آغاز تک جاری رہا ۔ یہاں تک کہ مسٹر محمد علی جناح (۱۹۴۸ - ۱۸۷۶) کا ظہور ہوا ۔ انھوں نے دو قومی نظریہ ایجاد کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہندو مسلمانوں سے الگ ہیں ، اور مسلمان ہندوؤں سے الگ ۔ یہ علیحدگی اگر صرف اعتقادی معنوں میں ہوتی تو اس سے کوئی خاص خرابی نہ ہوتی ۔ مگر انھوں نے اس علیحدگی کو جغرافی مفہوم دیا ۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ دونوں گروہوں کے درمیان نفرت اور مقابلہ آرائی ایک مستقل سیاسی اصول بن گیا ۔

دو قومی نظریہ حقیقتاً دو قوموں کے درمیان نفرت کے ہم معنی تھا۔ مخصوص اسباب کے تحت اس نظریہ کو مسلمانوں کے درمیان زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ پورے ملک میں دو قومی نفرت کی

‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues

Printed page