Al-Risala · July 1990 · page 7

سب سے بڑی ضمانت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۷

سب سے بڑی ضمانت

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تقویٰ والے لوگ اللہ کے محبوب ہیں (التوبہ ۳۶) ان کے لئے نہ خوف ہے اور نہ غم (الاعراف ۳۵) ان کے لئے خدا آسانی پیدا کرتا ہے (اللیل ۵) ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے (آل عمران ۱۷۲) ان کے لئے زمین و آسمان کی برکتیں کھول دی جاتی ہیں (الاعراف ۹۶) ان کو اللہ کی خصوصی مدد ملتی ہے (آل عمران ۱۲۵) ان کے لئے اللہ گنجائش اور کشادگی پیدا کرتا ہے (الطلاق ۲) ان کے معاملات میں آسانی پیدا کی جاتی ہے (الطلاق ۴) وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں (النور ۵۲) انجام کار صرف ان کے لئے ہے (القصص ۸۳) وغیرہ۔

تقویٰ اہل ایمان کے لئے آخرت کی نجات کا ذریعہ ہے۔ اسی کے ساتھ وہ مخالفوں اور دشمنوں سے محفوظ رہنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ تقویٰ سے یہ عظیم فائدے کس طرح حاصل ہوتے ہیں، اس کے لئے مندرجہ ذیل روایت پر غور کیجئے:

أَنَّ عمر بن الخطاب سأل اُبَيَّ بن كعب حضرت عمر بن خطاب نے حضرت ابی بن کعب سے عن التقوى ۔ فقال له: أما سلكت طريقاً ذا پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کیا آپ کبھی ایسے شوك - قال بلى ۔ قال فما عملت - راستہ پر نہیں چلے جہاں کانٹے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ قال شمرت و اجتهدت ۔ فقال ہاں۔ انھوں نے پوچھا کہ پھر آپ نے کیا کیا۔ انھوں نے فذالك التقوى ۔ کہا کہ میں نے دامن سمیٹ لئے اور خوب بچ بچ کر چلا۔ تفسير ابن كثير (۴۰/۱) انھوں نے کہا کہ بس یہی تقویٰ ہے۔

ابن المعتز نے تقویٰ کے اسی مفہوم کو اس طرح نظم کیا ہے:

خل الذنوب صغيرها وَكَبِيرَ هَا ذَاك التقى واصنع كماش فوق ارض الشوك يحذر ما يرى تقویٰ یہ ہے کہ تم چھوٹے اور بڑے گناہوں کو چھوڑ دو، اور کانٹے دار زمین پر چلنے والا جس طرح بچ بچ کر چلتا ہے، اسی طرح تم بھی کرو۔

تقویٰ (وقی) کا اصل مفہوم بچاؤ ہے۔ یعنی اذیت اور ضرر والی چیزوں سے بچ کر رہنا (مفردات راغب اصفهانی) نجات اور کامیابی کو تقویٰ کے عمل سے وابستہ کرکے اللہ تعالیٰ نے زندگی

‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues

Printed page