ایک جائزہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۶
ایک نئی فصل آگ آئی۔ ہندو مسلم نفرت ہی دونوں فرقوں کا سب سے بڑا مذہب بن گیا۔ اس زہریلی سیاست کی تکمیل ۱۹۴۷ میں ہوئی جب کہ پاکستان کی صورت میں دونوں فرقوں کے درمیان نفرت کی ایک ایسی دیوار کھڑی ہوگئی جو دیوار برلن سے بھی زیادہ مضبوط تھی۔
بیسویں صدی کے وسط سے دوبارہ اس ملک میں اسلام کی اشاعت کا کام رک گیا ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ مسٹر جناح کی وہ سیاست ہے جس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تلخی کی فضا پیدا کر دی۔ اب دوبارہ زمین و آسمان کو کسی ایسے دن کا انتظار ہے جب کہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت کا یہ ماحول ختم ہو اور اسلام کی اشاعت کا دروازہ دوبارہ کھل جائے جس طرح وہ اس سے پہلے کھلا ہوا تھا۔
اسلام دین فطرت ہے ۔ وہ تحریف سے پاک ہے ۔ لمبی تاریخ کے نتیجہ میں وہ ایک قائم شدہ دین بن چکا ہے۔ اسلام کی ان خصوصیات نے اب اس کے اندر یہ طاقت پیدا کر دی ہے کہ وہ اپنے آپ پھیلے ۔ وہ خود اپنے زور پر انسانوں کے دلوں میں داخل ہو۔ خود بخود اشاعت کے اس عمل میں واحد رکاوٹ یہ ہے کہ اسلام اور اس کی مدعو قوموں کے درمیان نفرت اور تلخی کی فضا پیدا ہو جائے ۔ اسلام کی اشاعت کے لیے اب مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے کسی عمل سے ایسی غیر موافق فضا پیدا نہ ہونے دیں۔ اگر مسلمان صرف اتنا کر سکیں تو اسلام اپنے آپ لوگوں کے اندر نفوذ کرنے لگے گا۔ اس کے بعد اسلام کی توسیع واشاعت کے لیے کسی براہ راست جدوجہد کی ضرورت نہیں۔
تبلیغی جماعت کا اصل نشانہ اگرچہ مسلمانوں کی دینی اصلاح ہے۔ مگر اس کے ذریعہ سے منافرت کو ختم کرنے کا وہ کام بالواسطہ طور پر انجام پارہا ہے جو اس سے پہلے صوفیاء کے ذریعہ زیادہ بڑے پیمانہ پر انجام پایا تھا، اگر یہ عمل قابلِ لحاظ حد تک بڑھ جائے تو انشاء اللہ اشاعت اسلام کا رکا ہوا کام دوبارہ ملک میں جاری ہو جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues