اسلامی شناخت
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۶۶
اسلامی شناخت
ہندوستان کی فرقہ پرست ہندو جماعتیں اگر یہ مطالبہ کریں کہ مسلمان اکثریت کا لباس (مثلاً دھوتی کرتا) پہنیں یا دونوں ہاتھ جوڑ کر سلام کریں تا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا ہو، تو تمام مسلم رہنما چیخ اٹھیں گے۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہمارے قومی تشخص کو ختم کرنے کی اسکیم ہے، اور ہم کبھی اس پر راضی نہ ہوں گے۔ یہ قومی تشخص کے بارے میں مسلم رہنماؤں کی حساسیت کا حال ہے۔ مگر یہی رہنما اسلامی تشخص کے بارہ میں بالکل بے حس بنے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانے پر اپنے اسلامی تشخص کو ختم کر رکھا ہے، مگر اس کے بارے میں ہمارے رہنما کوئی مہم نہیں چلاتے۔ شاید اس لیے کہ ’’قومی تشخص‘‘ کے لیے خطرہ غیر قوم کی طرف سے ہے، اس لیے اس مسئلہ پر مسلمانوں کی بھیڑ جمع کی جاسکتی ہے۔ مگر ’’اسلامی تشخص‘‘ کو مٹانے والے خود مسلمان ہیں، اس لیے اس مسئلہ پر مسلمانوں کی بھیڑ جمع کرنا ممکن نہیں۔ اسلامی تشخص کے پہلو سے ایک مثال لیجئے ۔ قرآن میں اہل ایمان کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ جب وہ لغو بات کو سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں (القصص ۵۵ نیز الفرقان ۷۲)، اس کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ نادان لوگ جب برے قول کے ذریعہ ان کے خلاف نادانی کرتے ہیں تو وہ برے قول کے ساتھ ان کا جواب نہیں دیتے ۔ بلکہ وہ ان کو معاف کر دیتے ہیں اور ان سے درگزر کرتے ہیں۔ وہ بھلی بات کے سوا اور کچھ نہیں کہتے ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال تھا کہ جاہل کی شدت صرف آپ کے حلم اور بردباری کو بڑھاتی تھی (تفسیر ابن کثیر، الجزء الثالث، صفحہ ۲۵ - ۳۲۴)
یہی بات دوسری جگہ اس طرح کہی گئی ہے کہ اہل ایمان وہ ہیں کہ جب کسی لغو اور بے ہودہ چیز سے ان کا گزر ہوتا ہے تو وہ سنجیدگی کے ساتھ اس سے گزر جاتے ہیں (الفرقان ۷۲)، اس کی تشریح مقاتل نے یہ کی ہے کہ اہل ایمان جب کافروں سے گالی اور اذیت کی بات سنتے ہیں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں اور اس سے درگزر کرتے ہیں (واذ اسمعوا من الكفار الشتم والأذى اعرضوا واصفحوا، التفسیر المظهری، المجلد السابع، صفحه ۵۴)
ان آیات اور اس طرح کی دوسری آیتوں اور حدیث کے مطابق، اہل ایمان کا اسلامی تشخص یہ ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کی طرح سب وشتم کرنے والوں سے الجھتے نہیں، بلکہ وہ ایسی باتوں کو نظر انداز کرتے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues