اسلامی شناخت
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۲
ہیں ۔ وہ ایسے مقام سے متانت کے ساتھ گزر جاتے ہیں ، جہاں ان کے خلاف اذیت ناک باتیں کی جارہی ہوں۔
اب اس قرآنی حکم کی روشنی میں جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس ملک کے مسلمانوں نے اس اعتبار سے اپنا اسلامی تشخص بالکل کھو دیا ہے۔ اس معاملہ میں انھوں نے اپنی اسلامی شناخت کو باقی نہیں رکھا ہے۔ اس ملک میں بار بار ایسا ہو رہا ہے کہ ہندوستان کی غیر مسلم اکثریت کے لوگ اپنا جلوس نکالتے ہیں ۔ اس میں وہ وہی فعل کرتے ہیں جس کو قرآن میں ’’ جہالت ‘‘ کہا گیا ہے۔ وہ اپنا جلوس اس سڑک سے لے جاتے ہیں جو کسی مسلم محلے سے گزرتی ہو۔ وہ اپنے جلوس میں ایسے نعرے لگاتے ہیں جو مسلمانوں کے لیے اذیت کا باعث ہوں۔
ایسے موقع پر مسلمان کیا کرتے ہیں ۔ وہ جلوس کو روکنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ ان کے نعروں پرمشتعل ہو کر مختلف قسم کی جوابی کارروائیاں کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا یہ ردعمل سراسر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ جس موقع پر قرآن نے واضح طور پر صبر واعراض کا حکم دیا ہے، وہاں وہ جوابی اشتعال کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں نے اس معاملہ میں اپنے اسلامی تشخص کو مکمل طور پر ختم کر رکھا ہے۔ یہ بلاشبہ لباس کے معاملہ میں اپنے قومی تشخص کو چھوڑنے سے بہت زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ مگر یہاں تمام مسلم رہنما خاموش ہیں۔ ان مواقع پر وہ مسلمانوں سے نہیں کہتے کہ تم قرآنی حکم پر قائم رہو اور اس معاملہ میں اپنی اسلامی شناخت کو نہ چھوڑو۔
موجودہ مسلم رہنماؤں کا حال یہ ہے کہ وہ قومی شناخت بمقابلہ ہندو کے تحفظ پر خوب بولتے ہیں، مگر اسلامی شناخت بمقابلہ مسلمان کے مسئلہ پر کچھ نہیں بولتے ۔ رہنماؤں کی یہ کوتاہی بلاشبہ جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اپنی اس روش سے وہ موجودہ مسلمانوں کے درمیان اپنی مقبولیت کو باقی رکھنے میں کامیاب ہیں۔ مگر سخت اندیشہ ہے کہ ان کی یہ روش خدا کے یہاں ان کو غیر مقبول بنادے ۔ اور پھر کوئی بھی لفظی مہارت ان کو بری الذمہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہ ہو ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues