دوسری غلطی نہیں
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۳۰
نکلتا تھا تو اب وہ روزانہ اور ہر جگہ نکلنے لگا۔
بڑھتے ہوئے مسائل کی یہ صورتِ حال صحابی کی نصیحت کی تصدیق کرتی ہے ۔ وہ مسلمانوں کی ردِ عمل کی سیاست کو بالکل بے فائدہ ثابت کر رہی ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان صحابی کی مذکورہ نصیحت کی اہمیت کو سمجھیں اور رد عمل کی روش کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں۔
دوسری غلطی نہیں
فساد کا حل سادہ لفظ میں صرف ایک ہے ـــــ "دوسری غلطی نہ کیجئے"۔ ایک فریق کی طرف سے کی جانے والی پہلی غلطی کبھی فساد تک نہیں پہنچ سکتی، جب تک فریقِ ثانی دوسری غلطی نہ کرے۔ جس طرح دونوں ہاتھوں کو حرکت میں لائے بغیر تالی نہیں بجتی، اسی طرح صرف پہلی غلطی فساد برپا کر نے کی طاقت نہیں رکھتی۔ مسلمان اگر یہ طے کر لیں کہ وہ فرقہ پرست عناصر کی پہلی غلطی کے باوجود کبھی دوسری غلطی نہ کریں گے تو صرف اس ایک فیصلے سے وہ فساد کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں۔
پہلی غلطی کے بعد دوسری غلطی کرنا فساد کو پھیلنے کا موقع دینا ہے۔ اس کے برعکس جب پہلی غلطی کے بعد دوسری غلطی نہ کی جائے تو فساد اپنے پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہو کر رہ جائے گا۔ پہلی غلطی کے بعد دوسری غلطی کرنا گویا آگ پر پٹرول ڈالنا ہے، اور پہلی غلطی کے بعد دوسری غلطی نہ کرنا گویا آگ پر پانی ڈالنا۔ مسلمان ہر سال بے شمار تعداد میں سیرۃ النبی کے جلسے کرتے ہیں۔ ان جلسوں میں پُر فخر طور پر کہا جاتا ہے کہ "سلام اس پر کہ جس نے گالیاں کھا کر دعائیں دیں"، مسلم شعراء جوش وخروش کے ساتھ اس قسم کی نظمیں پڑھتے ہیں :
راہ میں جس نے کانٹے بچھائے گالی دی پتھر برسائے اس پر چھڑ کی پیار کی شبنم صلی اللہ علیہ وسلم اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنے پیغمبر کی جس صفت کو بطور فخر پیش کرتے رہے ہیں، اس کو اپنی زندگیوں میں بطورِ نمونہ اختیار کر لیں۔ اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے امتی بھی بن جائیں گے اور اسی کے ساتھ تعصب اور ظلم اور فساد کا مسئلہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا جس طرح وہ رسول اور اصحابِ رسول کے لیے اسی طریقہ کو اختیار کرنے کی بنا پر ختم ہو گیا تھا۔
داعیانہ اخلاق
صبر و اعراض کی اہمیت صرف اس لحاظ سے نہیں ہے کہ وہ فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ کا حل ہے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues