Al-Risala · January 1990 · page 31

داعیانہ اخلاق

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۰، صفحہ ۳۱

سے بڑھ کر یہ کہ اپنی داعیانہ حیثیت کی بنا پر مسلمانوں کو لازماً ایسا ہی کرنا چاہیے۔ مسلمان خدا کی طرف سے خدا کے دین کا داعی ہے۔ ہندو اور دوسری تمام قومیں اس کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی بنیں۔ اور جو لوگ مدعوئ کی حیثیت رکھتے ہوں، ان کے بارہ میں خدا کا حکم ہے کہ ان کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گواریوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا جائے۔ تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان تناؤ کی فضا پیدا نہ ہونے پائے۔ کیونکہ تناؤ کی فضا میں کوئی دعوتی کام نہیں کیا جاسکتا۔

مسلمانوں کی داعیانہ حیثیت ان کے اوپر فرض کے درجہ میں ضروری قرار دیتی ہے کہ وہ برادران وطن سے حریف اور رقیب کا برتاؤ نہ کریں۔ بلکہ وہ ان کے ہمدرد اور خیر خواہ ہیں۔ مسلمانوں کے اوپر لازم ہے کہ وہ برادران وطن کی ایذا رسانی پر آخری حد تک صبر کریں۔ وہ ان کی ایذا رسانی کے باوجو دان کے حق میں دعائیں کریں۔ وہ دل سے ان کی اصلاح اور نجات کے حریص بن جائیں۔

آخرت میں امت محمدی کو جو سب سے بڑا اعزاز ملنے والا ہے وہ شہداء علی الناس کا اعزاز ہے۔ مگر یہ اعزاز صرف انہیں لوگوں کو ملے گا جنھوں نے دنیا میں خدا کے دین کی شہادت دی ہو۔ اور اس شہادت گواہی) کی راہ میں ایک طرز صبر و امراض کی وہ قربانی دی ہو جس کا اوپر ذکر ہوا۔ آخری بات اب موجودہ حالات میں مسلمانوں کے سامنے دو صورتیں ہیں۔ ایک ، نام نہاد رہنماؤں کا طریقہ جو ان کو رد عمل کے راستہ پر چلنے کا سبق دے رہا ہے۔ دوسرا ، خدا اور رسول کا طریقہ جو انہیں پکار رہا ہے کہ رد عمل سے بچو اور صبر و امراض کا طریقہ اختیار کرو۔ رہنماؤں کا طریقہ ذلت اور بربادی کی طرف لے جاتا ہے، اور خدا اور رسول کا طریقہ عزت اور کامیابی کی طرف۔ اب مسلمانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ دونوں میں سے کس طریقہ کو اپنے لیے پسند کر رہے ہیں۔

تازہ واقعات امید افزا طور پر بتاتے ہیں کہ مسلمانوں میں نیا شعور جاگا ہے۔ اب تک مسلمانوں میں یہ روایت جاری تھی کہ جب بھی ہندوؤں کا کوئی جلوس مسجد کے سامنے سے گزرے یا ہندوؤں کی ایک جماعت کوئی مخالفانہ نعرہ لگادے تو مسلمان فوراً اس کو اپنے لیے قومی وقار کا مسئلہ بنا لیتے تھے اور ایسے لوگوں سے لڑنے بھڑنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں بار بار فرقہ وارانہ فساد پیش آتا تھا۔ اب اس کے برعکس منظر سامنے آرہا ہے۔ جگہ جگہ مسلمان ایسا کر رہے ہیں کہ وہ ایسے واقعات کو ناقابل لحاظ سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of January 1990 All issues

Printed page