بے حسی کا مرض
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۴
کے خلاف ایک جھوٹا قصہ گھڑا۔ اس کے بعد دوسرے لوگ بلا تحقیق اس کو ایک دوسرے سے بیان کرنے لگے۔ اس پر قرآن میں کہا گیا کہ جب تم اس کو اپنی زبانوں سے نقل کر رہے تھے، اور اپنے منھ سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ اور تم اس کو ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالاں کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے (النور ۱۵)
کسی شخص کے بارہ میں ایک بری خبر سن کر اس کو بلا تحقیق پھیلانے لگنا، حساس دل کے لیے نہایت سنگین بات ہے۔ مگر جن لوگوں کی روحانی موت ہو چکی ہو، وہ اس کو بے تکلف چھاپنا اور نقل کرنا شروع کر دیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ، جذام کے مریض کی طرح، ان کی وہ حساسیت ختم ہو چکی ہوتی ہے جو اس طرح کے معاملہ میں انھیں چونکائے اور ان کو یہ کہنے پر مجبور کر دے کہ مایکون لنا ان نتكلم بھذا (۱۱ ہم کو حق نہیں کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں ، النور ۱۶۔ بخاری میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے، وہ اس کی کچھ پروا نہیں کرتا، حالانکہ اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے (إن العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله تعالى لا يلقي لها بالاً يهوى بها في جهنم)
ایک بات جس سے کسی کی آبرو ریزی ہوتی ہو، کسی کے اوپر جھوٹا الزام عائد ہوتا ہو۔ اس سے کسی کی کردار کشی ہو رہی ہو، اس قسم کی بات اپنی زبان سے نکالنا ایسے آدمی کے لیے ہمالیہ پہاڑ سر پر اٹھانے کے برابر ہے جس کا دل خوف خدا سے کانپ رہا ہو۔ مگر جس آدمی کے اندر احتساب خدا وندی کا احساس مردہ ہو جائے وہ ایسی باتوں کو اس طرح دہرائے گا جیسے وہ کوئی پر لطف قصہ بیان کر رہا ہے ۔
جذام کی بیماری جسمانی حساسیت کھونے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح غیر ذمہ دارانہ بات کرنا اور بلا تحقیق الزامات کو پھیلانا بھی ایک روحانی بیماری ہے۔ یہ بیماری اس آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے جس کی حساسیت آخرت کی پکڑ کے بارہ میں مردہ ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues