Al-Risala · July 1990 · page 13

بے حسی کا مرض

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۳

بے حسی کا مرض

انسانی بیماریوں میں ایک ڈراؤنی قسم کی بیماری وہ ہے جس کو جذام (leprosy) کہا جاتا ہے۔ یہ مہلک بیماری ایک مخصوص جراثیم کے سبب سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ جراثیم جسم کے محیطی اعصاب کو برباد کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر حساسیت کا مادہ ختم ہو جاتا ہے :

It is caused by Hansen's bacillus. Destruction of the peripheral nerves by the bacillus leads to a loss of sensation. (VI/159)

مثلاً جذام کے مریض کا ہاتھ اگر آگ پر پڑ جائے تو ہاتھ جلتا رہے گا مگر وہ اپنے ہاتھ کو آگ سے ہٹانے کے لیے حرکت میں نہیں آئے گا۔ اس کی وجہ یہی حساسیت کا خاتمہ ہے۔ آدمی کے جسم میں باریک قسم کے نازک اعصاب ہوتے ہیں۔ یہ اعصاب بے حد حساس ہوتے ہیں۔ جسم کے کسی حصہ میں کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ اسی وقت اس کی خبر دماغ کو پہنچاتے۔ دماغ فوراً اس حصہ جسم کو مقام حادثہ سے ہٹانے کا حکم دیتا ہے۔ اور ایک لمحہ میں جسم کا وہ حصہ وہاں سے ہٹالیا جاتا ہے ۔ جذام کے مریض کے اندر یہ مخصوص اعصاب مردہ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اگر اس کا ہاتھ آگ پر پڑ جائے تو دماغ تک اس کی خبر نہیں پہنچ سکے گی، اس لیے دماغ کا حکم بھی جاری نہیں ہوگا۔ اور وہ ہاتھ جلتے رہنے کے باوجود وہیں پڑا رہے گا۔ یہ جسمانی بیماری ایک خدائی نشانی ہے جو ہم کو ایک روحانی بیماری کی پہچان کراتی ہے۔ یہ روحانی بیماری وہی ہے جس کو قرآن میں قساوت (الحديد ۱۶) کہا گیا ہے۔ یہ اخلاقی اور روحانی موت کی ایک حالت ہے جب کہ برائی اور اچھائی کے بارہ میں آدمی کی حساسیت مردہ ہو جاتی ہے۔ وہ اس قلبی تڑپ سے محروم ہو جاتا ہے جو آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ جب وہ بھلائی کو دیکھے تو اس کی طرف دوڑے اور برائی کو دیکھے تو اس سے بھاگ کر اپنے آپ کو اس سے بچائے۔

ایمانی حساسیت سے اس محرومی کی مثالیں قرآن وحدیث میں کثرت سے بتائی گئی ہیں۔ مثلاً غزوہ بنی المصطلق (۶ھ) کے بعد ایک سادہ واقعہ کو شوشہ بنا کر مدینہ کے کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues

Printed page