Al-Risala · July 1990 · page 16

عبادت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۶

گھما کر سلام کرنا ، دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعا کرنا ۔ وغیرہ یہ ساری چیزیں انسان کے جسم سے اتنا زیادہ مطابقت رکھتی ہیں ، اور ان حرکات میں انسان کے تمام اعضاء اس طرح شامل ہوجاتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا انسان کا پورا جسم اسی لیے بنایا گیا تھا کہ وہ نماز کی شکل میں اپنے رب کی عبادت کرے۔

تمام انسان فطرت اللہ پر پیدا کیے گئے ہیں۔ یہ فطرت اللہ یہ ہے کہ آدمی اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے اور نماز کی صورت میں اس کی عبادت کرے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

فاقم وجهك للدين حنيفاً فطرت الله التي پس تم یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف سیدھا رکھو۔ فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك اللہ کی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو بنایا ہے۔ اس کے الدين القيم ولكن أكثر الناس لا يعلمون۔ بنائے ہوئے کو بدلنا نہیں۔ یہی سیدھا دین ہے۔ لیکن منيبين إليه واتقوه وأقيموا الصلاة اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ اسی کی طرف متوجہ ہو کر اور اسی ولا تكونوا من المشركين ۔ سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو۔ نماز کی یہی خاص صفت ہے جس کی بنا پر تاریخ میں اس طرح کی مثالیں ملتی ہیں کہ بہت سے لوگوں نے صرف مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر اسلام قبول کر لیا۔

آدمی کے اندر جو فطرت ہے وہ عبادت کی فطرت ہے ۔ آدمی کا پورا وجود عبادت کا طالب ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر نماز پڑھنے کا جذبہ لیے ہوئے ہے ۔ ہر آدمی کا پورا جسم اور اس کے تمام اعضاء نماز کی صورت میں ڈھل جانے کا خاموش داعیہ لیے ہوئے ہیں۔ اب جب ایک آدمی کسی نمازی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کا پورا وجود کہہ اٹھتا ہے کہ یہی وہ عمل ہے جس کی طلب وہ اپنے اندر لیے ہوئے تھا۔ نماز اس کو خود اپنی تلاش کا جواب معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کی فطرت کی یہ تڑپ اس کو مجبور کرتی ہے اور وہ نمازیوں کے ساتھ نماز میں جھک جاتا ہے ۔ (اركعوا مع الراكعين)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues

Printed page