اوصاف انسانی
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۱۷
اوصاف انسانی
قرآن میں معمولی لفظی فرق کے ساتھ دو مقام پر یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اس کو نہ بدل ڈالے جو اس کے جی میں ہے (ان ٱللَّهَ لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم ، الرعد ١١)
اس خدائی سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی گروہ کے مابقوم (اجتماعی حالت) کا انحصار اس کے ما بأنفس (انفرادی حالت) پر ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ حیثیت قومی کا دارومدار اوصاف انسانی پر ہے۔ کسی قوم کے افراد میں انسانی یا اخلاقی اوصاف جیسے ہوں گے ، اسی نسبت سے اس کو دنیا میں اجتماعی مقام حاصل ہوگا ، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ ۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے موجودہ زمانہ کی ایک مثال لیجئے ۔ یہ بات سبھی لوگ مانتے ہیں کہ جاپان نے دوسری عالمی جنگ کے بعد بہت غیر معمولی ترقی کی ہے۔ اس ترقی کا ایک خاص راز ان کا اتحاد ہے۔ جاپانی ہر کام کو متحدہ انداز میں کرتے ہیں۔ وہ اپنے اتحاد کو آخر وقت تک برقرار رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کی طاقت بہت بڑھ جاتی ہے ۔ وہ ہر معاملہ میں غیر معمولی طور پر کامیاب رہتے ہیں ۔ جاپان کے اس اتحاد کا راز ان کے افراد کا ایک شخصی مزاج ہے جو تقریباً تمام جاپانیوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ پروفیسر چی نکانی (Chie Nakane) کی جاپانی زبان میں ایک کتاب ہے جس کا ترجمہ انگریزی میں جاپانی سماج (Japanese Society) کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس کتاب میں جاپانی پروفیسر نے لکھا ہے کہ جاپانیوں کا انفرادی مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں کسی کے ماتحت ہوں : I am under someone (p. 51). دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہر جاپانی احساس ماتحتی میں جیتا ہے۔ اس لیے جب بھی کوئی اجتماعیت قائم ہوتی ہے تو وہ فوراً اس سے جڑ جاتا ہے ، وہ تنظیم کے سربراہ کو فوراً اپنا سربراہ مان لیتا ہے ، کیوں کہ وہ پہلے ہی سے یہ مانے ہوئے تھا کہ میں کسی کے ماتحت ہوں ۔ یہ ہے جاپانیوں کے اس اتحاد کا راز جس کے نتیجہ میں انھوں نے موجودہ زمانہ میں حیران کن ترقی حاصل کی ہے۔
اب موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھئے۔ مسلمانوں کا معاملہ جاپانیوں کے بالکل برعکس ہے۔ مسجد
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues