A Brief History of Times
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۲۶
یہ تمام باتیں بلاشبہ لغو ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک خدا ہے جو تمام چیزوں کا مالک ہے۔ اسی نے انسان کو اور کائنات کو پیدا کیا۔ وہی اس کو چلا رہا ہے۔ یہ دنیا کوئی الٹپ یا بے مقصد دنیا نہیں ۔ یہ خدا کے منصوبہ کے مطابق ہے۔ اس کا آغاز اور اس کا انجام دونوں منصوبہ خداوندی کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : مذہب اور جدید چیلنج) انسان کے بارہ میں خدا کا منصوبہ یہ ہے کہ اس نے انھیں پیدا کر کے امتحان کے لئے موجودہ دنیا میں رکھا ہے۔ اس کا یہ امتحان پیدائش سے موت تک جاری رہتا ہے۔ موت کے بعد ہر آدمی کے جزاء کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ موت کے بعد ہر آدمی اپنے دنیوی عمل کے مطابق ، یا تو جنت کی پر راحت زندگی پائے گا یا جہنم کے عذاب خانہ میں داخل کر دیا جائے گا۔
موجودہ دنیا میں آدمی کے پاس جو کچھ ہے وہ رہنے کے لئے امتحان ہے ، آخرت میں جو کچھ اس کو دیا جائے گا وہ رہنے کے استحقاق ہوگا۔ یہ فرق پورے معاملے کو آخری حد تک بدل دے گا۔ موجودہ دنیا میں ہر چیز ہر آدمی کو ملی ہوئی ہے۔ کیوں کہ امتحان کے لئے اس کو سب کچھ دینا ضروری تھا۔ اگر چیزیں اور مواقع نہ دئے جائیں تو آدمی کا امتحان کیسے ہوگا۔ مگر موت کے بعد آنے والی دنیا میں صورت حال یکسر بدل جائے گی۔
جو آدمی موجودہ دنیا میں اپنا استحقاق ثابت نہ کر سکے ، وہ آخرت کے عالم میں اس طرح داخل ہو گا کہ وہاں وہ بالکل خالی ہاتھ ہو گا۔ ہوا اور پانی اور روشنی بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے ۔ وہ اچانک اپنے آپ کو بے بسی کے عالم میں پائے گا۔ موجودہ دنیا میں اس کو ہر چیز اپنی نظر آتی ہے ۔ آخرت میں ہر چیز اس کے لئے غیر ہو جائے گی۔ وہ ایسے ماحول میں ہو گا جہاں اجنبیت اور بے چاری کے سوا کوئی اس کا استقبال کرنے والا نہیں ۔
یہی وہ صورت حال ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے : اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہے ، اگر تم سچے ہو۔ کاش یہ انکار کرنے والے اس وقت کو جانتے جب وہ آگ کو اپنے سامنے سے نہ روک سکیں گے اور نہ اپنے پیچھے سے ۔ اور نہ ان کو مدد پہنچے گی۔ بلکہ وہ اچانک ان پر آ جائے گی ، پس وہ حیران رہ جائیں گے ، پھر وہ نہ اس کو دفع کر سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی (الانبیاء ، ۳۸ - ۴۰ )
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues