ایک سوال
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۲۷
ایک سوال
کہا جاتا ہے کہ خدا کی بنیاد پر کائنات کی توجیہہ کرنا بھی مسئلہ کا حل نہیں۔ کیوں کہ پھر فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدانے کائنات کو بنا یا تو خدا کو کس نے بنایا۔ مگر یہ ایک غیر منطقی سو ال ہے۔ اصل مسئلہ ”بے سبب “ خدا کو ماننا نہیں ہے۔ بلکہ دو ”بے سبب “ میں سے ایک بے سبب کو ترجیح دینا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ ہمارے سامنے ایک پوری کائنات موجود ہے۔ ہم اس کو دیکھتے ہیں۔ ہم اس کا تجربہ کر رہے ہیں۔ ہم کائنات کے وجود کو ماننے پر مجبور ہیں۔ ایک شخص خدا کو نہ مانے، تب بھی عین اسی وقت وہی کائنات کو مان رہا ہوتا ہے۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ آدمی کائنات کو بے سبب مانے۔ مگر اس قسم کا عقیدہ ممکن نہیں۔ کیوں کہ کائنات میں تمام واقعات بظاہر اسباب و علل کی صورت میں پیش آتے ہیں۔ ہر واقعہ کے پیچھے ایک سبب کار فرما ہے۔ اس طرح خود کائنات کی اپنی نوعیت ہی یہ چاہتی ہے کہ اس کے وجود کا ایک آخری سبب ہو ۔ جب کائنات کے حال کا ایک سبب ہے تو اس کے ماضی کا بھی لازمی طور پر ایک سبب ہونا چاہئے ۔ یعنی وہ چیز جس کو علت العلل کہا گیا ہے۔
بے سبب کائنات کو ماننا ممکن نہیں۔ اس لئے لازم ہے کہ ہم اس کا ایک سبب مانیں۔ کائنات لازمی طور پر اپنا ایک آخری سبب چاہتی ہے ۔ یہی منطق لازمی قرار دیتی ہے کہ ہم خدا کو مانیں ۔ اس لاینحل مسئلہ کو حل کرنے کی دوسری کوئی بھی تدبیر ممکن نہیں۔ بے سبب خدا کو مان کر ہم اپنے آپ کو بے سبب کائنات کو ماننے کے ناممکن عقیدہ سے بچا لیتے ہیں ۔
خدا کو ماننا عجیب ہے۔ مگر خدا کو نہ ماننا اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ خدا کو مان کر ہم صرف زیادہ عجیب کے مقابلہ میں کم عجیب کو اختیار کرتے ہیں ۔
راهِ عمل ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ قرآن و سنت اور تاریخ کی روشنی میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues