Its advent changed the course of human history.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۳۴
کو ختم کرنے کی ذمہ داری داعی کے اوپر ڈالی گئی ہے۔
جبر کو قانون خداوندی کے تحت بہر حال ختم ہونا ہے۔ اس لئے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ عقیدہ کی اصلاح ، ذہن کی تربیت اور اخلاق کی تعمیر پر محنت صرف کی جائے۔ تا کہ جب خدا جابروں کے اقتدار کو توڑے تو صالح افراد کا ایک قابل اعتما دگر وہ اس کی جگہ لینے کے لئے معاشرہ میں موجود ہو۔ موجودہ زمانہ میں مسلم قائدین کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے سیاسی جبر کے نظام کو توڑنے کو اولین اہمیت دے دی۔ وہ اپنی ساری توجہ اور محنت اسی محاذ پر صرف کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ایک سیاسی جبر ٹوٹا تو اس کی جگہ دوسرے سیاسی جبر نے لے لی، کیونکہ اس کی جگہ لینے کے لئے کوئی قابل اعتماد صالح گروہ وہاں موجود نہ تھا۔ مثلاً مصر کے اسلام پسندوں نے شاہ فاروق کے سیاسی جبر (۱۹۵۲) کو توڑا تو اس کے فوراً بعد جمال عبد الناصر کا سیاسی جبر قائم ہو گیا۔ پاکستان کے اسلام پسندوں نے ایوب خاں کے سیاسی جبر (۱۹۶۹) کو توڑا تو اس کے بعد جو چیز وہاں قائم ہوئی وہ مسٹر بھٹو کا سیاسی جبر تھا۔ ایک صاحب نے جنرل محمد ضیاء الحق کی۔ بہت تعریف کی۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے خیال میں جنرل ضیاء الحق صاحب کا خاص کارنامہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے نزدیک ان کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ کے ایوان میں حق کی آواز بلند کی۔ میں نے کہا کہ جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنے ساڑھے گیارہ سالہ دور حکومت (۸۸- ۱۹۷۷) کے دوران میرے نزدیک اسلام یا ملت اسلام کا کوئی حقیقی کام نہیں کیا۔ جو کام ان کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں (مثلاً اقوام متحدہ میں تقریر کرنا) وہ سب اخباری اہمیت کے کام ہیں نہ کہ حقیقی اہمیت کے کام۔ البتہ صدر ضیاء الحق کے ذریعہ ایک کا رنامہ ضرور انجام پایا ہے۔ اور وہ ہے ایک افسانہ کا خاتمہ۔ ان کے ذریعہ پاکستان کا اسلام پسند طبقہ مکمل طور پر ایکسپوز (expose) ہو گیا۔ ضیاء الحق صاحب نے حکومت کے اندر اور حکومت کے باہر وہاں کی اسلام پسند جماعت اور وہاں کے علماء کو مکمل مواقع دئے۔ مگر ان لوگوں نے صرف یہ ثابت کیا کہ وہ لوگ اس کام کے لئے آخری حد تک نااہل ہیں۔ وہ نہ حکومتی عہدوں کو اسلامی انداز پر سنبھالنے کی استعد ادر کھتے ہیں اور نہ حکومت کے باہر کوئی گہرا تعمیری کام کرنے کی صلاحیت ان کے اندر موجود ہے۔
موجودہ حالت میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ خاموش فکری مہم کے ذریعہ ذہنوں کو بدلا
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues