Al-Risala · July 1990 · page 39

Its advent changed the course of human history.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۳۹

سید قطب سیاسی رقیب کی حیثیت سے ناصر کے مخالفین میں تھے، اس لئے ان دونوں اور بعض دوسرے افراد کو سعودی عرب میں پذیرائی حاصل ہوگئی۔ ان کی کتابیں سعودی عرب کی قیمت پر ہر زبان میں بڑی تعداد میں پھیلائی جانے لگیں۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب کی کتابوں کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خاص سبب یہی سعودی تعاون ہے۔ حالانکہ استدلالی اعتبار سے دونوں صاحبان کی کتابیں سطحی تھیں۔ ان کی اہمیت زیادہ تر ان کی انشاء پردازی میں تھی نہ کہ ان کی علمی حیثیت میں۔ خرید ارسی کی بنیاد پر یہ کتابیں بھی نہ پھیلتیں۔ مگر مفت تقسیم کی بنا پر وہ ہر جگہ پہنچ گئیں۔

ایک عرب عالم اخوان سے تعلق رکھتے تھے اور مولانا ابو الاعلٰی مودودی کی تحریروں سے کافی متاثر تھے۔ انھوں نے میرے بارے میں کہا کہ آپ کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ اسلام دعوت کا نام ہے۔ اسلام کا سیاست اور حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر انھوں نے مولانا مودودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مودودی سے پہلے اسلام صرف نماز اور عبادت کا نام تھا۔ مودودی نے بتایا کہ اسلام ایک کامل اور شامل نظام ہے۔

میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگ دین کو ایک ڈھانچہ کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ آپ نماز کو بھی ایک ظاہری ڈھانچہ سمجھتے ہیں اور نظام حکومت کو بھی ایک ظاہری ڈھانچہ۔ اس لئے آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ نماز دین کا جزئی ڈھانچہ ہے اور نظام حکومت دین کا مکمل ڈھانچہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دین ایک معنوی حقیقت کا نام ہے نہ کہ ظاہری ڈھانچہ کا۔ یہ ایک ہی معنوی حقیقت ہے جو مسجد میں نماز کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور سیاست میں اسلامی نظام حکومت کی صورت میں۔

میرے فکر اور دوسروں کے فکر میں آپ کا یہ تقابل صحیح نہیں۔ دونوں میں اصل فرق یہ ہے کہ ہم دین کو ایک معنوی حقیقت سمجھتے ہیں جس کو شریعت میں تقویٰ کہا گیا ہے۔ اور آپ نے دین کو ایک ظاہری ڈھانچہ سمجھ رکھا ہے۔ ہم دین کے احیاء کے لئے اس کی معنویت کے احیاء کی کوشش کر رہے ہیں، اور دوسرے لوگ دین کے احیاء کے لئے اس کے خارجی نظام کا احیاء کرنا چاہتے ہیں۔

طرابلس کے ہندوستانی سفارت خانہ میں کبھی جانے کا اتفاق ہوا۔ جناب ذکر الرحمن صاحب

‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues

Printed page