Its advent changed the course of human history.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۴۰
وہاں سکنڈ سکریٹری کے طور پر ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ مسٹر رحمن کو سفارت خانہ میں بہت با عزت مقام حاصل ہے۔ ہر ایک ان کا احترام کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنا کام نہایت مستعدی کے ساتھ انجام دیتے ہیں ۔ اور اکثر اپنی واقعی ڈیوٹی سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ شاید یہی و ہ حقیقت ہے جس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لفظوں میں بیان کیا : إن قيمة المرء ما يحسنه ۔ آدمی جب کوئی برا کام کرے تو لوگوں کو صرف اس کی برائی یاد رہتی ہے۔ ہر آدمی اس کو بری نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس آدمی جب کوئی اچھا کام کرے تو وہ صرف اس اچھے کام کے واسطے سے جانا جانے لگتا ہے۔ اس کا اچھا کام ہی اس کی تصویر بن جاتا ہے۔ اس کی زندگی میں اگر کچھ کمتر پہلو ہیں ، تو وہ سب پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
ایک عرب عالم سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ہمارے مشن سے پوری طرح واقف ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے نہایت تاثر کے ساتھ کہا کہ آپ کا یہ مشن عربوں کے لئے رحمت ہے ۔ کیوں کہ اگر وہ اس فکر کو اختیار کر لیں تو ان کے لئے ممکن ہو جائے گا کہ وہ انسگریٹی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں نے عالم عربی میں جو حالات پیدا کر دئے ہیں ، اس کے بعد ان کے لئے دو برائیوں میں سے ایک برائی کو اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ یا قید یا نفاق ۔ اگر وہ چاہیں کہ وہ اپنے موجودہ دینی خیالات کے ساتھ زندہ رہیں تو انہیں عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اور اگر وہ سیاسی النِّظَام کے ساتھ موافقت کر کے زندہ رہیں تو یہ ان کے لئے منافقت ہوگی، کیونکہ ان کے دل میں کچھ ہوگا اور عمل میں کچھ :
إن رسالتك هذه رحمة للعرب لان بهذه الرسالة هم يستطيعون أن يعيشوا بشخصية انسجامية ، ففي الأحوال القائمة التي توجد في العالم العربي اليوم بسبب الحركات الإسلامية المعاصرة ، لم يبق لهم إلا الاختيار بين الشرين ، أما السجن وإما النفاق ۔ بحيث انهم اذا ارادوا ان يعيشوا طبقاً لمشاعرهم الدينية عذبوا ، وان ارادوا ان يعيشوا وفق نظام ينافقوا ایک عرب ملک کے متعلق مجھے معلوم ہوا کہ وہاں ایک اسلامی جماعت کے افراد گھریلو انداز پر اپنا اجتماع کیا کرتے تھے ۔ اس پر حکومت کی طرف سے پابندی لگا دی گئی۔ بعد کو ان لوگوں نے ذمہ داروں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues