Al-Risala · July 1990 · page 45

شوشہ نہ کہ حقیقت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۴۵

صدر اسلامی مرکز نے مارچ ۱۹۹۰ میں کچھ بیرونی ملکوں کا سفر کیا۔ اس سفر کے ذیل میں بہت سے لوگوں سے گفتگو ہوئی اور خطابات کے مواقع ملے۔ سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔

انگلینڈ کی برمنگھم یونیورسٹی میں ایک شعبہ ساؤتھ ایشین ریسرچ اسٹیڈیز کے نام سے قائم ہے۔ اس کے ایک انگریز پروفیسر سی ڈبلیو نارتھ (C.W. North) ۸ مارچ ۱۹۹۰ کو اسلامی مرکز میں آئے اور اسلام اور مسلمانوں کے بارہ میں صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وہ کئی گھنٹے مرکز میں رہے۔ جاتے ہوئے انھیں مرکز کی کچھ انگریزی مطبوعات دی گئیں۔ ۳۔ غیرمسلم صاحبان کثرت سے اسلام کو سمجھنے کے لئے مرکز سے رجوع کر رہے ہیں۔ مثلاً ۱۱ اپریل ۱۹۹۰ کو مسٹر پاریش ناتھ ڈائرکٹر ڈبلیو پیس پتریکا (لیڈ)، صدر اسلامی مرکز سے ملے اور اسلام کے مختلف پہلوؤں کے متعلق معلومات کیں۔ ان کو الرسالہ انگریزی کے کئی شمارے برائے مطالعہ دئے گئے۔ مسٹر ڈبلیو ڈھلیکار (بودھ گیا، بہار) نے الرسالہ انگریزی کا ایک شمارہ پڑھا۔ اس کے بعد وہ چاہتے ہیں کہ اس کو مستقل اپنے مطالعہ میں رکھیں۔ وہ الرسالہ انگریزی کی بابت اپنے خط میں لکھتے ہیں:

I found indeed, it is very interesting and very helpfull for the present day جاپانی اخبار سیکائی نیو (Sekai Nippo) کے نمائندہ مسٹر کو نیو نیشی (Kunio Nishi) ۳۰ مارچ ۱۹۹۰ کو دوسری بار مرکز میں آئے اور اپنے اخبار کے لئے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں تھے۔ جناب اقبال احمد صاحب (مراد آباد) نے بتایا کہ انھوں نے اپنے چھوٹے صاحبزادہ کو جامعہ طیبہ (دہلی) میں داخل کرایا۔ وہاں ان کو ہاسٹل کا کمرہ بھی مل گیا۔ مگر صاحبزادہ کا دل نہیں لگا اور ایک مہینہ کے بعد وہ اپنا سامان لے کر اپنے گھر واپس چلے گئے۔ پوچھا گیا تو بتایا کہ میرا دل وہاں پڑھنے میں نہیں لگتا۔ اقبال احمد صاحب نے ان سے کچھ اور نہیں کہا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues

Printed page