Al-Risala · July 1990 · page 46

شوشہ نہ کہ حقیقت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۴۶

انہوں نے اپنی الماری سے الرسالہ کا ایک شمارہ (مئی ۱۹۸۲) نکالا اور کہا کہ اس کو پڑھ ڈالو اور کئی بار پڑھو۔ چند دن تک صاحبزادہ اس پرچہ کو پڑھتے رہے ۔ اس کے بعد خود کہا کہ میں دہلی جا رہا ہوں۔ وہ دوبارہ آکر محنت سے پڑھنے لگے۔ اس طرح بہت سے لوگ الرسالہ کے ذریعہ اپنے بچوں کی تربیت کر رہے ہیں۔

۶- عرب ملکوں میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ غیر مسلم لوگ رہتے ہیں جو پٹرول اور دوسرے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ اطلاع ملی ہے کہ ان لوگوں کے درمیان انگریزی الرسالہ اور مرکز کی دوسری انگریزی مطبوعات کے ذریعہ اسلام کی دعوت پہنچائی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس کے بعد اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ لوگ مزید انگریزی لٹریچر کی مانگ کر رہے ہیں۔

۷- الرسالہ کے مضامین مسلم اخبارات و رسائل کے علاوہ غیر مسلم پریس میں بھی برابر چھپ رہے ہیں۔ مثلاً نئی دہلی کا انگریزی پرچہ لوکائن بلیٹن (مئی ۱۹۹۰) نے الرسالہ انگریزی کا ایک آرٹیکل دوبارہ پورے حوالہ کے ساتھ چھاپا ہے۔ اس طرح الرسالہ کی آواز وسیع تر حلقہ میں پہنچ رہی ہے۔

۸- کئی لوگوں نے بتایا کہ ان کے لڑکے یورپ اور امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا وہاں کام کرتے ہیں، وہ ہندوستان میں انگریزی الرسالہ خریدتے ہیں اور اس کو پڑھنے کے بعد یورپ اور امریکہ میں اسے اپنے لڑکوں کو بھیج دیتے ہیں۔ ایسا بہت سے لوگ کر رہے ہیں۔ اس طرح الرسالہ کا پیغام اپنے خریداروں کے ذریعہ بہت سے ملکوں میں پہنچ رہا ہے۔ ۹- اپریل ۱۹۹۰ میں صدر اسلامی مرکز کی دو تقریریں آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئیں ۔ ایک تقریر ۱۹ اپریل کو اور دوسری تقریر ۲۶ اپریل کو ۔ دونوں تقریریں اخلاقی اور اصلاحی نوعیت کی تھیں۔ ان کو الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ ان تقریروں کے عنوانات یہ تھے : انتقام نہیں، اور حقیقت پسندی۔

۱۰- بدر الدین احمد صاحب (مراد آباد) اپنے کاروبار کے سلسلہ میں اکثر سفر کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ بیگ میں الرسالہ کے کچھ شمارے بھی ضرور ہوتے ہیں۔ وہ راستہ میں لوگوں کو

‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues

Printed page