Al-Risala · July 1990 · page 47

شوشہ نہ کہ حقیقت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۰، صفحہ ۴۷

الرسالہ پڑھاتے رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کئی واقعے بتائے۔ مثلاً وہ مراد آباد سے دہلی آ رہے تھے۔ راستہ میں ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی جو ایک ہائر سکنڈری اسکول میں استاد ہیں۔ انھوں نے ان کو الرسالہ جنوری ۱۹۹۰ دیا اور ا کہ پہلے اس کا مضمون ایک نمونہ (صفحہ ۲۳) ، پڑھئے انھوں نے پڑھنے کے بعد کہا کہ " میں نے آج تک کسی عالم کو نہ پڑھا اور نہ دیکھا جو مسلمانوں کو اس طرح کی باتیں بتائے۔ یہ ایک منفرد رسالہ ہے۔ اب تک میں اس سے واقف نہ تھا۔ اب میں اس کو برابر پڑھوں گا۔ اس طرح وہ تقریبا دس سال سے کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے بہت سے لوگوں کو الرسالہ کا قاری بنایا ہے۔ وہ ہندو مسافروں کو بھی پڑھاتے ہیں اور مسلم مسافروں کو بھی۔ غیر اردو دانوں کو پڑھ کر وہ سناتے ہیں۔

۱۱۔ ایک صاحب الرسالہ کے قاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میرے بچے انگریزی درس گاہوں میں پڑھتے ہیں۔ وہ اردو سمجھتے ہیں مگر وہ اردو پڑھ نہیں سکتے۔ انھوں نے بتایا کہ جب الرسالہ آتا ہے تو میں اپنے بچوں کو بٹھاتا ہوں اور ان کو پڑھ کر سناتا ہوں۔ الرسالہ کے دوسرے بہت سے قاری بھی اپنے گھروں میں ایسا ہی کر رہے ہیں۔

۱۲۔ مولا نا مقبول احمد مفتاحی (اجرا ء ، مدھوبنی)، جامع مسجد میں امام ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہر ہفتہ وہ جمعہ کے خطبے سے پہلے آدھ گھنٹہ تقریر کرتے ہیں۔ اس میں زیادہ تر الرسالہ سے اصلاحی باتیں لے کر لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ مختلف مقامات پر مسجدوں کے ذریعہ الرسالہ کا تعمیری پیغام پھیلا رہے ہیں۔ ۱۳۔ ایک صاحب لکھتے ہیں: آپ کی کئی کتابیں میں نے پڑھ لیں۔ ان سے بہت متاثر ہوں۔ دین کامل جیسی ایمان افروز اور ولولہ انگیز کتاب آج تک میری نظر سے نہیں گزری۔ اس کو پڑھ کر معلوم ہوا کہ اسلام کا مطلب کیا ہے۔ اور وہ اپنے ماننے والے کو کیا بنا دیتا ہے۔ اس کو سمندر کا اضطراب اور ساحل کا سکوت عطا کرتا ہے۔ الرسالہ برابر مل رہا ہے۔ پڑھ کر عجیب روحانی کیف محسوس کرتا ہوں ۔ فکر و تدبر کی نئی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ سچ ہے از دل خیزد بردل ریز د۔ (بدر جمال اصلاحی ، سرائمیر، اعظم گڑھ)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1990 All issues

Printed page