Al-Risala · August 1990 · page 7

راستے میں

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۷

راستے میں

مسٹر دربارہ سنگھ پنجاب کے لیڈر تھے ۔ وہ پنجاب کے چیف منسٹر بھی رہے۔ 11 مارچ ۱۹۹۰ کو ۷۵ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ ہندو (۱۲ مارچ ۱۹۹۰) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ وہ نئی دہلی میں تھے۔ ان پر دل کا شدید دورہ پڑا۔ وہ فورا مقامی بترا اسپتال میں لے جائے گئے۔ مگر راستہ ہی میں ان کا انتقال ہو گیا :

He died on way to hospital.

میں نے اس خبر کو پڑھا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں۔ یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ ہر آدمی کہیں جا رہا ہے، مگر ہر آدمی راستے میں مر جاتا ہے۔ ہر آدمی اپنے خوابوں کی ایک دنیا بنانا چاہتا ہے، مگر کسی آدمی کا خواب پورا نہیں ہوتا، اور وہ حسرت و یاس کے ساتھ اس دنیا کو چھوڑ کر دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے۔

اعظم گڑھ میں ایک راجہ ہر کھ چند تھے ۔ ۱۹۴۷ کے پہلے کے دور میں انھوں نے شہر میں ایک محل نما کوٹھی بنانا شروع کیا۔ برس ہا برس تک اس میں کام ہوتا رہا۔ مگر ان کی زندگی میں کوٹھی مکمل نہ ہو سکی۔ وہ اس کو مکمل صورت میں دیکھے بغیر دنیا سے چلے گئے۔ اسی طرح ہر آدمی اپنا ایک دل پسند" مکان" بنا رہا ہے۔ جس آدمی کے پاس ذاتی مکان نہیں وہ دوسرے کے مکان پر غاصبانہ قبضہ کر کے صاحب مکان بن جانا چاہتا ہے۔

مگر آخر میں ہر آدمی بے مکان رہ جاتا ہے۔ کسی کا مکان کھڑا ہونے کے بعد بھونچال کے ذریعہ توڑ دیا جاتا ہے۔ کسی کو موت کا فرشتہ اس کے مکان سے جدا کر دیتا ہے۔ ہر آدمی راستے میں ختم ہو رہا ہے ۔ کوئی بھی اپنی پسندیدہ منزل پر نہیں پہنچتا۔

اس دنیا میں آدمی کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ راستے میں مرے۔ یہاں کسی بھی شخص کو اس کی مطلوبہ منزل نہیں مل سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا راستہ ہے۔ یہ دنیا منزل نہیں۔ انسان کی منزل آخرت میں ہے ۔ عقل مند وہ ہے جو دنیا کو راستہ سمجھے اور آخرت کو اپنی منزل بنائے۔ یہی وہ شخص ہے جو آخر کار اپنی پسندیدہ منزل تک پہنچے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page