Al-Risala · August 1990 · page 8

فرضی تصویر

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۸

فرضی تصویر

پاکستان کے روزنامہ نوائے وقت (یکم اپریل ۱۹۹۰) میں "سرراہے" کے زیر عنوان درج ہے کہ سابق ایئر مارشل اصغر خاں نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوری اتحاد اور مسلم لیگ دونوں جماعتیں اپنے اپنے جلسوں کی ویڈیو فلمیں بنا کر امریکہ بھیج رہی ہیں تاکہ امریکہ کو باور کرا سکیں کہ ہمارا جلسہ بڑا تھا۔ اس لیے پاکستانی عوام کی تائید ہمیں حاصل ہے۔

ہالی وڈا مریکہ میں واقع ہے جہاں سٹنٹ فلمیں تیار کی جاتی ہیں۔ اس لیے امریکہ کو معلوم ہے کہ کیمرہ ٹرک کے ذریعہ چند سو کے مجمع کو لاکھوں میں دکھایا جا سکتا ہے اور پانی کی چھوٹی سی نالی کو کیمرہ کے ذریعہ دریا میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اگر یہ ویڈیو فلمیں امریکہ میں بھیجی بھی جائیں گی تو امریکہ ان پر اعتبار نہیں کرے گا۔ بلکہ وہ خود اپنے کیمرہ مینوں کی بنائی ہوئی فلمیں دیکھ کر اور اپنے سفارت کاروں کی رپورٹیں پڑھ کر فیصلہ کرے گا " صفحہ ۱۰ یہ تبصرہ میں نے اخبار میں پڑھا تو اچانک مجھے یاد آیا کہ بہت سے لوگ آخرت کے معاملہ میں بھی وہی عمل کر رہے ہیں جو پاکستان کی جماعتیں اپنی دنیا کے معاملہ میں کر رہی ہیں ۔ بہت سے لوگ اپنی حیثیت اور اپنے کام کے بارہ میں مبالغہ آمیز تصویریں بناتے ہیں۔ ان کا " شعبہ نشر و اشاعت " اس قسم کی رپورٹیں تیار کرنے اور چھاپنے میں مشغول ہے جن کو پڑھ کر لوگ سمجھیں کہ وہ ہمالیائی قسم کی دینی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

مگر اللہ تعالی کے یہاں کسی کی حیثیتِ دینی کا تعین اس کی اپنی رپورٹوں پر نہیں ہوگا بلکہ اس رپورٹ پر ہوگا جو فرشتوں نے اس کے بارہ میں تیار کی ہوگی۔ اور فرشتے جو رپورٹ تیار کرتے ہیں وہ عین مطابق واقعہ ہوتی ہے ، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔

ہر شخص کو جاننا چاہیے کہ اس کا معاملہ آخری طور پر جہاں پیش ہونا ہے وہ خدا ہے۔ آدمی اگر خدا کے سامنے سُرخرو ثابت نہ ہو سکے تو انسانوں کے سامنے سرخرو ہونا اتنا بے معنی ہے کہ اس کی قیمت اس سیاہی کے برابر بھی نہیں جو اس کاغذی تشہیر کے لیے استعمال کی گئی تھی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page