Al-Risala · August 1990 · page 10

انصاف کا طریقہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۰، صفحہ ۱۰

ہیں رو ذکر موسی بن عقبۃ ان أُمَرَاءَهُ أَشَارُوا عليه بان يرد هم اليهم۔ فقال لا والله حتى اسمع کلامہم واعلم على آی شئی هم عليه (۱۸۰)

اس کے بعد شاہ نجاشی نے حکم دیا کہ جو مسلمان ہمارے ملک میں آئے ہیں، ان کو میرے دربار میں حاضر کیا جائے۔ چنانچہ وہ لوگ لائے گئے۔ وہ لوگ دربار میں داخل ہوئے تو وہاں کے عام آداب کے خلاف انہوں نے بادشاہ کے سامنے سجدہ نہیں کیا۔ نجاشی ایک عیسائی بادشاہ تھا۔ اپنے سابقہ عقیدہ کے مطابق، وہ حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا مانتا تھا۔ مگر گفتگو کے دوران جب حضرت عیسی کا ذکر ہوا تو صحابہ کے نمائندہ جعفر بن ابی طالب نے صاف کہہ دیا کہ وہ خدا کے پیغمبر تھے، وہ خدا کے بیٹے نہ تھے۔ وغیرہ نجاشی نے پوری بات معلوم کرنے کے بعد مکہ کے وفد کے ہدیہ اور تحفہ کو واپس کر دیا۔ اس نے ان سے کہا کہ تم لوگ اپنے ملک کو لوٹ جاؤ، میں ان مسلمانوں کو ہرگز تمہارے سپرد کرنے والا نہیں۔ وہ میرے ملک میں جب تک چاہیں گے رہیں گے۔ (سیرۃ ابن کثیر، المجلد الثانی، صفحہ ۲۲) یہی انصاف کا صحیح طریقہ ہے۔ انصاف یک طرفہ کارروائی کا نام نہیں۔ انصاف دونوں فریق کے بعد منصفانہ فیصلہ دینے کا نام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی براہ راست تصدیق کے مطابق ، نجاشی کا عمل بلا شبہ انصاف کا معیاری نمونہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی ایسا مسئلہ سامنے آئے جو دو فریقوں سے تعلق رکھتا ہو تو ایسے موقع پر ایک فریق کی بات سن کر فیصلہ کر دینا سراسر ظلم ہے۔ ایسا کرنا کسی بھی شخص کے لیے درست نہیں، خواہ وہ کتنے ہی بڑے منصب پر فائز ہو۔

شاہ نجاشی نے بعد کو اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس لحاظ سے نجاشی کا نمونہ ایک عادل اور مسلم بادشاہ کا نمونہ ہے۔ نجاشی اس معاملہ میں نہ اہل مکہ کے تحفوں اور نذرانوں سے متاثر ہوا، نہ اس نے اپنے مصاحبوں اور قریبی لوگوں کے مشورہ اور سفارش کو مانا۔ حتی کہ شاہ نجاشی نے اس کی پروا بھی نہیں کی کہ مسلمانوں نے خود اس کی بھی وہ تعظیم و تکریم نہیں کی جس کا وہ عادی تھا۔ اور اس طرح گویا وہ بر سر دربار اس کی توہین کے مرتکب ہوئے ۔ مزید یہ کہ انہوں نے بادشاہ اور ساری قوم کے مذہبی عقائد کی تردید کی اور اس کو غلط بتایا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1990 All issues

Printed page